اِک اور شاہِ بلوط ٹوٹ گرا



     مورخہ 28 ذی القعدہ 1447 ہجری مطابق 16 مئی 2026 بروز سنیچر صبح دس بجے،سرزمینِ کشمیر کی نامور شخصیت جناب شیخ محمد حسن صاحبؒ کے انتقال کی خبر نے اہلِ کشمیر کو دلی صدمے میں مبتلا کر دیا۔قحط الرّجال کے سلگتے صحرا میں شیخ صاحبؒ ایک شاہِ بلوط کی مانند کھڑے تھے۔افسوس کہ اہلِ کشمیر ایک ایسی عظیم ہستی سے محروم ہوگئے جو اس دور میں تحریکِ اسلامی اور خدمتِ قرآن میں اپنی مثال آپ تھی۔شیخ صاحبؒ نادرۂ روزگار تھے،ان جیسے لوگ صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے اس طرح کی عظیم شخصیات کے بارے میں ہی کہا تھا:

       ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
       بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا​
          
    شیخ صاحبؒ کی رحلت کی خبر سن کر دل بیٹھ گیا۔ایک ایسا صدمہ تھا جو اعصاب شکن تھا۔ساری مصروفیات ترک کر کے راقم فوراً تاریگام پہنچ گیا۔وہاں کا منظر عجب دل فگار تھا۔اُداس کر دینے والی ہستی کے آخری دیدار کے لیے خواتین و مرد گروہ در گروہ آ رہے تھے۔جب راقم جسدِ خاکی کے نزدیک پہنچا تو جذبات قابو میں نہ رہے۔وہ سفید اُجلے کفن میں ملبوس بے حد سکون سے لیٹے تھے۔صرف چہرہ کھلا تھا۔میری نظر جب ان کے چہرے پر پڑی تو یقین نہیں آتا تھا کہ شیخ صاحبؒ معمول کی نیند میں ہیں یا اَبدی نیند سو رہے ہیں۔اس صحن میں ان کے عقیدت مندوں کی آنکھیں نم ناک تھیں اور دل افسردہ تھے۔بعض اَفراد کو دیکھا کہ دیواروں سے لگ لگ کر سسکیاں لے رہے تھے۔تحریکِ اسلامی کے سینکڑوں کارکن اپنے مرشدِ عظیم اور داعیٔ انقلاب کے انتقال کی خبر سن کر ایک دوسرے کو تسلیت دے رہے تھے۔ان کی نمازِ جنازہ ان کے گاؤں کی عیدگاہ ہی میں ادا کی گئی۔انہوں نے محترم رینا صاحب کو وصیت کی تھی کہ انتقال کے بعد میرا نمازِ جنازہ پڑھنا،اس وصیت پر رینا صاحب نے بخوبی عمل کیا اور امامت کا فریضہ انجام دیا۔یہ نمازِ جنازہ خود بچھڑنے والی اس عظیم روح کو ایک شاندار خراجِ تحسین تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ پورا علاقہ پلٹ پڑا ہو۔لوگ ہر طرف سے دیوانہ وار دوڑ رہے تھے۔نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو لوگ شیخ صاحبؒ کے آخری دیدار کے لیے ٹوٹ پڑے۔قرآنِ مجید کے عظیم خادم اور داعی کے آخری دیدار کی ایک جھلک کے لیے لوگ بے تاب نظر آتے تھے۔حاضرین اُداس اور افسردہ تھے۔ہزاروں آنکھیں نم ناک تھیں۔شیخ صاحبؒ ان لوگوں کے لیے روشنی کا مینار تھے جو اسلامی انقلاب کی حسرت لیے پھرتے تھے۔یوں لگتا تھا کہ ان کے آدرش اب ہمیشہ کے لیے حسرتِ ناتمام بن کر رہ جائیں گے۔
     
    شیخ صاحبؒ ایک سلیم الفطرت اور پاکیزہ طبیعت کے مالک تھے۔انہوں نے تحریکِ اسلامی جموں و کشمیر کی فلک بوس عمارت کی بنیاد میں خشتِ اول بن کر نہ صرف اس کے حسن کو دوام بخشا بلکہ اس کے جمال میں عظمت اور وقار میں بلندی بھی پیدا کر دی۔ان کی جوانی صلاحیتوں سے لبریز تھی،انہوں نے دنیوی تعلیم کا اچھا ذخیرہ بھی حاصل کیا تھا اور مختلف زبانوں پر انہیں اچھی دسترس حاصل تھی۔اگر وہ”مِنْکُمْ مَّنْ یُرِیْدُ الدُّنْیَا“کے قافلے میں شامل ہو جاتے تو بے پناہ دولت کما کر شاہانہ زندگی بسر کر سکتے تھے۔لیکن انہوں نے شعوری طور پر”مِنْکُمْ مَّنْ یُرِیْدُ الْآخِرَۃَ“کے قافلے کا انتخاب کیا،اسی میں اپنی عافیت سمجھی اور اللّٰہ نے انہیں شرحِ صدر بھی عطا فرما دیا۔جب اس قافلے کی دعوت پہلی بار سامنے آئی تو انہوں نے فوراً اسے قبول کر لیا۔ان کے سینے میں قلبِ سلیم تھا،اسی لیے ان کے کانوں میں ہر لمحہ یہ آواز گونج اٹھتی تھی:”دیکھو قافلہ چھوٹ نہ جائے!“ اور ذیل کی آیتِ مبارکہ نے چین سے بیٹھنے نہ دیا:
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا  ۖرَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ‌ۚ۔(آل عمران:193)
”مالک! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی،پس اے ہمارے آقا! جو قُصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما،جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔“
   
   وہ بخوبی جانتے تھے کہ جس راستے کا انہوں نے انتخاب کیا ہے،وہاں قدم قدم پر آزمائشوں کی بارش برسے گی،کانٹوں کی جھڑیوں سے الجھنا پڑے گا،اور کئی بار زندگی کی تمام پیاری چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔وہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے خوب آگاہ تھے:
       تمنا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں
   تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
 
      ہر طرف کفر و شرک کی گھٹاٹوپ اندھیری چھائی ہوئی تھی۔یقینِ محکم نے ان کے دل کو مضبوط کر لیا اور اصحابِ کہف کی طرح فتنوں کے اُس دور میں کھڑے ہو کر انہوں نے یہ الفاظ دہرائے:
رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًـا‌ لَّـقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏۔(الکھف:149)
”ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پُکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے“۔
     
   قافلۂ حق میں شمولیت کے بعد وہ”ایثار و قربانی“کا عملی پیکر بن گئے۔سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر مادیت کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا اور نوجوانوں کو یہ ابدی پیغام دے دیا کہ خدا پرستی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کیرئر کی قربانی ناگزیر ہے،تاکہ دینِ حق کی سربلندی کے لیے عملی جدوجہد کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا جا سکے۔مادیت کے اثرات کا بڑی حد تک واقف تھے اور اکثر دروس میں”فکرِ آخرت“کے موضوع پر لب کشائی فرماتے تھے اور اپنی بات کو مزید تقویت دینے کے لیے علامہ اقبالؒ کے اس شعر کو پڑھ کر سناتے تھے:
         عصر حاضر ملک الموت ہے تيرا،جس نے
         قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
          
     بلند و بالا نظریہ کو دل میں جگہ دینے کے بعد پہلے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کیا پھر اپنی جان،اپنا مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کی سربلندی کے لیے پیش کیا۔راہِ حق میں انہیں سخت مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا،ان کی زندگی تلخ ہوگئی اور ان پر ابتلا و آزمائش کا پہاڑ ٹوٹ پڑا لیکن دین کی خاطر وہ سب کچھ برداشت کرتے رہے اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔وہ کبھی قلّت و کثرت کے چکّر میں نہیں پڑے اور نہ ہی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے کبھی حالات کے سازگار ہونے کا منتظر رہے۔وہ مایوسی کو کسی بھی صورت میں اپنے قریب نہیں آنے دیتے۔ بار بار اس بات کا تلقین کرتے تھے کہ ہمارا کام تو صرف اقامتِ دین کی کوشش کرنا ہے،باقی نتائج اللّٰہ کے ذمہ ہیں۔اگر انسان صحیح راستے پر گامزن ہے تو منزل کے حصول کے لیے کسی جلد بازی کی ضرورت نہیں۔بڑی کامیابیاں بڑی دیر کے بعد ہی آتی ہیں۔دورِ ابتلا میں سامعین کو ذیل کی آیتِ مبارکہ کا حوالہ دیتے اور انہیں استقامت کی تلقین فرماتے تھے:
فَاسۡتَقِمۡ كَمَاۤ اُمِرۡتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ۔(ھود:112)
”پس اے محمدؐ،تم،اور تمہارے وہ ساتھی جو(کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف)پلٹ آئے ہیں،ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔“
       اور ساتھ میں مولانا عامر عثمانیؒ صاحب کا یہ شعر بھی پڑھ کر سناتے تھے:
        یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں
        وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
    
      اپنوں اور غیروں کے ساتھ ہمیشہ رحم دلی سے پیش آتے تھے۔نوجوان انہیں بہت محبوب تھے،ان کی تربیت کے حوالے سے بے حد فِکر مند رہتے تھے۔ملاقات کے وقت پیشانی کا بوسہ دیئے بغیر الوداع نہ کرتے تھے۔ان بوسوں کی ٹھنڈک آج بھی ان کے سینوں میں بخوبی محسوس ہوتی ہوگی۔اسلام کو ایک کامل نظامِ زندگی کی حیثیت سے جانتے تھے اور اپنے دروس میں بھی اس کا ہمہ گیر تصوّر پیش کرتے تھے۔اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والوں کو اپنے دروسِ قرآن کی شکل میں قیمتی نصیحتوں سے نوازتے تھے اور انہیں مؤمنانہ صفات اپنانے کی پُرزور تاکید کرتے تھے۔ان کے خطبات سننے کا جن لوگوں کو موقع ملا ہے،وہ گواہی دیں گے کہ وہ فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر تھے۔ان کے دروسِ قرآن دل نشین،روح پرور،فصیح و بلیغ اور متاثر کُن ہوا کرتے تھے،جو سامعین کرام کے دلوں پر ایک خاص کیفیت طاری کرتے تھے اور ان کی ایمانی لیول بڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں دین کے نام پر اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور کرتے تھے۔ناگفتہ بہ حالات میں اکثر ان کے دروسِ قرآن کا موضوع”معرکۂ فرعون و کلیم“ہوا کرتا تھا۔قرآن مجید کی متعدد سورتوں(سورۂ البقرہ،طٰہٰ،قصص،اعراف،نازعات وغیرہ)کا حوالہ دے کر انسان کو اس بات پر مطمئن کرتے تھے کہ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ ہر دور میں حق اور باطل کی کشمکش کی علامت ہے۔موضوع کی مناسبت کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کو ضرور پڑھ کر سناتے تھے:
        اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
         تازہ ہر عہد ميں ہے قصہ فرعون و کليم
         مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
         اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لا تخف
      
   راقم الحروف کو ان کے متعدد دروسِ قرآن سننے کا موقع ملا،لیکن ایک بار ان کا ایک انوکھا اور انتہائی یادگار درسِ قرآن سنا،جو ذیل کی آیتِ مبارکہ پر مشتمل تھا:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ۖسِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ ۛ ۖۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ ۛۚ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۔(الفتح:29)
”محمدؐ اللّٰہ کے رسول ہیں،اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت  اور آپس میں رحیم ہیں۔تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود،اور اللّٰہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔یہ ہے ان کی صفت توراة میں۔اور انجیل  میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی،پھر اس کو تقویت دی،پھر وہ گدرائی،پھر اپنے  تنے پر کھڑی ہوگئی۔کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔اِس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللّٰہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔“
       بلا مبالغہ اسٹیج پر ان کا نورانی چہرہ ”سِيمَاهُمْ فِيْ وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ“ کا زندہ ترجمان تھا۔راقم کو ذہن میں فوراً خیال آیا کہ اس آیت کے بارے میں کئی تفاسیر کا مطالعہ کر چکا ہوں،مگر شیخ صاحبؒ کے لبوں سے جو تفسیری نکات نکل رہے تھے،وہ اتنے انوکھے اور حیرت انگیز تھے کہ قلم بیان کرنے سے عاجز تھا اور دماغ تصوّر کرنے سے قاصر۔یہی معاملہ ایک دوسرے موقع پر بھی ہوا کہ شیخ صاحبؒ درسِ قرآن دے رہے تھے اور ان کا موضوع”تقویٰ“ تھا۔جو آیتِ مبارکہ انہوں نے تلاوت فرمائی وہ یہ تھی:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ۔(آل عمران:102)
”اے لوگوں جو ایمان لائے ہو،اللّٰہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔“
    راقم کے کانوں میں جیسے ہی یہ آیت پہنچی،دل باغ باغ ہوگیا۔وجہ یہ تھی کہ”تقویٰ“راقم کے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک رہا ہے۔اسی موضوع پر راقم نے”حقیقتِ تقویٰ“ کے نام سے ایک یادگار کتاب بھی تالیف کی تھی۔اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کا”پیش لفظ“ شیخ صاحبؒ نے ہی تحریر فرمایا۔”تقویٰ“ پر سو سے زائد کُتب کے گہرے مطالعے کے باوجود شیخ صاحبؒ کی تشریح نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔ان کا رعب میرے اندر مزید گہرا اُتر گیا۔طوالت کے خوف سے قلم روک رہا ہوں ورنہ بہت سارے دروس کی یہی رُوداد ہے۔

       تصنیف کے میدان میں بھی ان کا قدم شہسوارانہ تھا۔ان کے مضامین کو مطالعہ کر کے ایک قاری کا ذہن کھل جاتا تھا اور اسے چند صفحات مطالعہ کرنے کے بعد ہی بہت کچھ حاصل ہوتا تھا۔راقم نے ایک بار”فلسفۂ عید الاضحیٰ“ کے بارے میں مطالعہ کیا،بہت سی کتابیں کھنگالی اور نیٹ پر بھی کئی مضامین پڑھے،مگر دل مطمئن نہیں ہوا۔اس کے بعد راقم نے شیخ صاحبؒ کا چھوٹا سا رسالہ بعنوان”عید الاضحیٰ کا پیغام اُمّتِ مسلمہ کے نام“پڑھا تو دل کو قرار آگیا اور وہ پیاس جو برسوں سے تھی،وہیں بُجھ گئی۔آج جبکہ اولادِ ابراہیم علیہ السلام چہار سو ابتلا و آزمائش کی آگ میں گھری ہوئی ہے،ان کے سامنے ان کے جدِّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پُرعزیمت اور پُرجذبہ زندگی پیش کی جائے،تاکہ وہ اپنا مقام و مقصدِ وجود پہچان کر ان آزمائشوں کا مقابلہ کریں اور سرخ رو ہو کر نکلیں۔شیخ صاحبؒ نے اسی رسالہ میں اس حقیقت کو بڑے ہی دلنشین انداز میں واضح فرمایا ہے۔

       ایسی نادرِ روزگار ہستی کا اس جہاںِ فانی سے رخصت ہو جانا واقعی ایک ناقابلِ تلافی خلا چھوڑ گیا ہے۔انہوں نے اپنے پیچھے ایک عظیم اور بابرکت مشن چھوڑا ہے،جسے تادمِ آخر سینے سے لگائے رکھنا اور اسے سیراب کرتے رہنا ہماری سب سے پہلی اور مقدّس ذمہ داری ہے۔اللّٰہ تعالیٰ ان کی جملہ قربانیوں کو اپنے دربار میں شرفِ قبولیت بخشے،انہیں مغفرت فرمائے،جنت کے اعلیٰ بالاخانوں میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Comments

  1. آہ.....اللہ جنت نصیب کرے

    ReplyDelete

Post a Comment