*موت:ایک اٹل حقیقت*
✍️ ندیم احمد میر
*موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی*
*ہے یہ شامِ زندگی،صبحِ دوامِ زندگی*
(علامہ اقبالؒ)
اللّٰہ تعالیٰ کا ہر ایک فیصلہ حکمت سے پُر ہوتا ہے،جس میں کسی شک و ریب کی گنجائش نہیں ہے۔آج ہمارے مُزمّل بھائی کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پاس بُلا لیا،ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب وہ ذات جانتی ہے جو کامل علم کے ساتھ ساتھ کامل حکمت بھی رکھتی ہے۔اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کے حق میں کچھ فیصلے ایسے صادر ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کے وہ ناگواری کا اظہار کرتا ہے لیکن ایک وقت پہ اسے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ میرے لیے یہی بہتر تھا۔
مُزمّل بھائی دنیا کو الوداع کہتے ہوئے ہمیں دنیا کی اصل حقیقت سمجھاتے گئے۔دنیوی زندگی ہر انسان کے لیے ایک امتحان گاہ کی سی ہے۔انسان کو اپنے اعمال کے مطابق اس کا نتیجہ اچھا یا بُرا ملے گا۔پھر انسان اپنی موت کو کیوں بھلا بیٹھا ہے،حالانکہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی بھی انسان کو مفر نہیں ہے۔موت اس دھرتی پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے۔اس دنیا میں ہر ذی روح کی انتہا موت ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں پر بھی موت لکھ دی ہے چاہے وہ جبریل،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہی کیوں نہ ہوں،حتیٰ کہ ملک الموت(عزرائیل)بھی موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے:
كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ۔(آل عمران:185)
*”آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔کامیاب دراصل وہ ہےجو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔رہی یہ دنیا،تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔“*
نیز ارشاد ہے:
كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِؕ وَنَبۡلُوۡكُمۡ بِالشَّرِّ وَالۡخَيۡرِ فِتۡنَةً ؕ وَاِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ۔(الانبیاء:35)
*”ہر جاندار کو موت کا مزّہ چکھنا ہے،اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔“*
نیز ارشاد ہے:
كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۖ ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ۔(العنکبوت:57)
*”ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے،پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے۔“*
نیز ارشاد ہے:
قُلۡ اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِىۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيۡكُمۡ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ۔(الجمعہ:8)
*”اِن سے کہو،جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آ کر رہے گی پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے،اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔“*
نیز ارشاد ہے:
اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكْكُّمُ الۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔(النساء:78)
*”رہی موت،تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبُوط عمارتوں میں ہو۔“*
کسی شاعر کا قول ہے:
بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ حَيَ عَلَمُ الْمَوْتِ يَلُوحُ
نَحْ عَلَى نَفْسِكَ يَا مِسْكِينَ إِنْ كُنْتَ تَنُوحُ
لَتَمُوْتنَ وَ لَوْ عُمَرَتْ ما عُمر نوخ
*ترجمہ:”ہر زندہ انسان کی آنکھوں کے سامنے موت کا جھنڈا ہمہ وقت لہرا رہا ہے۔اے دوسروں کی موت پر رونے والے مسکین! رونا ہے تو خود اپنی موت کو یاد کر کے رویا کرو۔کیونکہ ایک روز ضرور بالضرور خود تم بھی تو مر ہی جاؤ گے اگرچہ تمہیں حضرت نوح علیہ السلام جیسی طویل زندگی ہی کیوں نہ نصیب ہو جائے۔“*
آج انسان دنیا کے عیش و عشرت میں اتنا مشغول ہو گیا ہے کہ اس کو موت کی ذرا بھی فکر نہیں رہی۔موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے،وہ کہیں بھی اور کبھی بھی آسکتی ہے۔حضرت عثمان غنیؓ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے جن کو جنت کی خوشخبری دنیا ہی میں سنا دی گئی تھی،لیکن اس کے باوجود آپؓ کا یہ حال تھا کہ عذابِ قبر کے خوف سے اس قدر روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی تھی۔
جاتے جاتے مُزمّل بھائی ہمیں درد بھری پُکار میں کہہ رہیں ہیں کہ میرے بھائیو! ذرا اس مشکل وقت کو یاد کیجیے جو ایک نہ ایک دن ضرور آنے والا ہے۔جب دوست و احباب،اولاد اور بہن بھائی آپ کے گرد جمع ہوں گے اور آپ اشکوں سے بھیگی ہوئی،حسرت بھری نگاہوں سے انہیں ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ رہے ہوں گے اور یہ دولتِ دنیا،رشتے ناطے اور امنگیں آرزوئیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔بہتر یہی ہے کہ بروقت خوابِ غفلت سے بے دار ہو جایئے اور سفرِ آخرت کے لیے زادِ راہ تیار کیجیے کیونکہ موت کے بعد کے مراحل تو بہت زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ مزمّل بھائی کی مغفرت فرما کر انہیں جنت کے اعلیٰ بالاخانوں میں جگہ دے،لواحقین کو صبرِ جمیل عنایت فرمائے اور ہمارا بھی خاتمہ بالخیر کرے،آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment