آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

     اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،جنہیں انسان گِن نہیں سکتا۔خود اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں اپنی نعمتوں کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ(النحل:18)
*”اگر تم اللّٰہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گِن نہیں سکتے۔“*
       اللّٰہ کی طرف سے انہی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت اولاد کا مل جانا ہے،جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔والدین کے لیے اولاد کی نعمت کتنی عظیم ہوتی ہے،اس کی بخوبی قدر وہ والدین جانتے ہیں جو عمر بھر در در کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود بھی اولاد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ویسے تو نعمت چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو لیکن جب چھن جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنی بڑی تھی۔ہم روز اللّٰہ کی بے شمار نعمتیں استعمال کرتے ہیں مگر شکر تب یاد آتا ہے جب کمی محسوس ہو۔
        یہ اولاد ہی تو ہے جو ہمارے جانے کے بعد بھی ہمیں فائدہ دیتی ہے،ہمارے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے،ہماری نیکی کی وراثت کو لے کر آگے چلتی ہے،ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنتی ہے اور دنیا و آخرت میں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ بنتی ہے۔اسی لیے حضرات انبیاء کرام علیہم السّلام اولاد کی نعمت حاصل کرنے کے لیے تڑپتے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کے دربار میں اس نعمت کو حاصل کرنے کے لیے درد بھرے الفاظ میں سوال کرتے تھے۔
        اگرچہ والدین کو اولاد ملنے سے لے کر اپنی زندگی کی آخری شاموں تک مختلف مشکلات اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی وہ ہر وقت اپنے اندر ہمت اور حوصلے پیدا کرتے ہیں۔یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے کہ والدین اپنے سارے خوابوں کو اولاد کی خاطر قربان کر ڈالتے ہیں۔والدین کو اپنی اولاد کے ساتھ گہرا لگاؤ ہوتا ہے۔اگر خدا نخواستہ اولاد کو معمولی سی چوٹ لگتی ہے تو والدین کا پورا جسم درد میں رہتا ہے اور انہیں راتوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہے۔والدین چاہتے ہیں کہ ہم خود خاک کے سپرد کر دیے جاییں لیکن اپنی اولاد کا غم انہیں برداشت نہیں ہوتا ہے۔

          اولاد ایک بیج کی مانند ہے،جن کی بہاریں والدین مستقبل میں ایک پھل دار درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ غم اور محرومیاں دے کر بھی آزماتا ہے۔دنیا میں اگرچہ والدین کو مختلف صعوبتوں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے اولاد کا جنازہ اٹھتے دیکھنا والدین کے لیے ایک ایسی آزمائش ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ ایک بھاری بوجھ ہوتا ہے جو تادمِ واپسیں والدین کے کمزور شانوں پر رہتا ہے،یہ ایک ایسا گہرا زخم ہوتا ہے جس سے عرصہ دراز تک خون بہتا رہتا ہے۔بدقسمتی سے چھہ دنوں پہلے وادی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے رہنے والے ایک ہونہار بچہ(ہنزلہ)کو دبجن شوپیان میں دریا کی تُند و تیز لہروں نے اپنے ساتھ بہا لیا۔بہت سارے نوجوان اور بزرگ حضرات مسلسل چھہ دنوں دریا کی تلاشی لے رہے تھے،ڈوڑہ کے ہمزہ بھائی نے محنتِ شاقہ برداشت کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کر ڈالی اور بالآخر عاشق فاروق اور ان کے باپ فاروق احمد کے ہاتھوں نعش کَل برآمد ہوگئی،جو کہ واقعی قابلِ تحسین ہیں۔ہمزہ بھائی کا جذبہ اور یقینِ محکم دیکھ کر راقم کو خواجہ مجذوبؒ کا یہ شعر یاد آگیا:
       *اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں*
       *یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے*
  
      ان کے والدین کے لیے سچ میں یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہے لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لینا ہمت کے کاموں میں سے ہے۔یہ ایک خوبصورت گلاب اللّٰہ ہی نے انہیں دیا تھا اب اللّٰہ ہی کی طرف لوٹ کر واپس چلا گیا،إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔قوی امید ہے کہ ہنزلہ بیٹا قیامت کے دن اپنے والدین کے جنت کا ذریعہ بنیں گے کیونکہ ترمذی شریف کی روایت ہے:
*”جب کسی شخص کا بیٹا انتقال کر جاتا ہے تو اللّٰہ کریم فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بیٹے کی رُوح قبض کر لی؟ تو وہ عرض کرتے ہیں:ہاں۔پھر فرماتا ہے:تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا؟ تو وہ عرض کرتے ہیں:ہاں۔پھر فرماتا ہے:میرے بندے نے کیا کہا؟ تو وہ عرض کرتے ہیں:اس نے آپ کی تعریف کی اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ پڑھا تو اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اُس کا نام بَيْتُ الْحَمْد رکھو۔“*
   
        جب ان کی نعش گھر پہنچ گئی تو وہاں ہزاروں لوگ دیدار کے لیے منتظر تھے اور ہر ایک کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔لوگ بڑی مشکل سے ان کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ دعائیں دیتے تھے۔چند نوجوانوں کے ذریعہ سب لوگوں کو چہرہ دکھایا گیا پھر کچھ وقفہ بعد نمازِ جنازہ پڑھ کے انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔اللّٰہ تعالیٰ ان کے قبر کو نور سے بھر دے،ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل کی نعمت سے نوازے،آمین۔
    
جاتے جاتے ہنزلہ بیٹے نے ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھائی کہ یہ سچ میں فانی اور ناپایدار ہے۔ان جیسے گلابوں کے جنازے اٹھتے دیکھ کے بھی اگر ہم خوابِ غفلت میں سوئے رہیں اور ٹَس سے مَس نہیں ہوئے تو یہ ہماری بدبختی کی دلیل ہوگی۔ہمارے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کی موت اور ذیل کی آیتِ مبارکہ کافی ہے:
اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَـقِّۙ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ‌ؕ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔(الحدید:16)
*”کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللّٰہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جُھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی،پھر ایک لمبی مدّت اُن پر گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟“*

Comments

Post a Comment