موٹیویشنل اسپیکرز(میاں زاہد اسلام انجم)—ایک مطالعہ

          قرآنِ مجید نے باطل کی چمک دمک اور اس کے فریب کی حقیقت سمجھانے کے لیے ایک نہایت بلیغ اور دل نشیں مثال بیان فرمائی ہے:

وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَعۡمَالُهُمۡ كَسَرَابٍۢ بِقِيۡعَةٍ يَّحۡسَبُهُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـئًـا۔(النور:39)
”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی تمثیل یہ ہے کہ جیسے چٹیل صحرا میں سراب ہو جس کو پیاسا پانی گمان کرے۔یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا۔“
      ذرا تصور کیجیے! ایک بے آب و گیاہ صحرا میں ایک مسافر سفر کرتے کرتے شدید پیاس کی شدت سے نڈھال ہو چکا ہے،اس کے پاس پانی کی ایک بوند بھی نہیں۔وہ بے قراری سے دور دور تک نگاہیں دوڑاتا ہے کہ کہیں کوئی چشمہ،کوئی تالاب یا پانی کا نشان دکھائی دے۔اچانک اسے دور افق پر دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت لہراتے ہوئے پانی کی مانند دکھائی دیتی ہے۔وہ اسے حقیقت سمجھ کر اپنی تمام توانائی سمیٹتا،لپکتا اور اس امید پر وہاں پہنچتا ہے کہ اب پیاس بجھے گی،جان میں جان آئے گی،مگر جب قریب پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ آبِ رواں سمجھ رہا تھا،وہ محض سراب تھا—نہ وہاں پانی تھا،نہ سیرابی،نہ تشنگی کا مداوا۔اس لمحے اس کی حسرت،مایوسی اور درماندگی کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے پیاس کی شدت اور سراب کا فریب دیکھا ہو۔
          یہی سراب،اپنی ایک نئی صورت میں،آج کے انسان کے سامنے بھی موجود ہے۔خصوصاً نوجوان نسل کے سامنے موٹیویشن،کامیابی،خود اعتمادی اور شخصیت سازی کے نام پر ایسے تصورات اور دعوے پیش کیے جاتے ہیں جو بظاہر امید کی روشنی دکھاتے ہیں،مگر بسا اوقات انسان کو حقیقی منزل تک پہنچانے کے بجائے محض الفاظ،وقتی جوش اور جذباتی سرشاری کے دائرے میں گھماتے رہتے ہیں۔نوجوان اپنی قیمتی عمر،وقت اور توانائی ان چمکتی ہوئی باتوں کے تعاقب میں صرف کرتا رہتا ہے،پھر جب فریب کی تہہ کھلتی ہے اور حقیقت سامنے آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ جسے منزل کا راستہ سمجھ کر اختیار کیا تھا،وہ تو محض ایک سراب تھا۔اور بعض اوقات واپسی کا سفر اتنا دشوار ہو چکا ہوتا ہے کہ گزرا ہوا وقت واپس لانا اور ضائع شدہ صلاحیتوں کو دوبارہ جمع کرنا کارِ لاحاصل بن جاتا ہے۔
          اسی پس منظر میں میاں زاہد اسلام انجم کی کتاب ”موٹیویشنل اسپیکرز(ایک حقیقت ایک فریب)“ خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔یہ کتاب محض موٹیویشنل اسپیکرز کے رجحان پر ایک سطحی تبصرہ نہیں،بلکہ اس پورے تصور کے پسِ پردہ موجود حقیقت اور فریب کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ اور فکر انگیز کوشش ہے۔مصنف نہایت دل نشیں،عام فہم اور مؤثر انداز میں قاری کو متوجہ کرتے ہیں کہ ہر چمکتی ہوئی بات روشنی نہیں ہوتی،ہر بلند بانگ دعویٰ حقیقت نہیں ہوتا اور ہر موٹیویشن انسان کو منزل تک نہیں پہنچاتی۔یوں یہ کتاب خصوصاً نوجوانوں کو اس فکری سراب سے باخبر کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش بن کر سامنے آتی ہے۔
         اس فکری کاوش کے خالق میاں زاہد اسلام انجم پڑوسی ملک کے ایک فعّال فلاحی شخصیت،صاحبِ فکر قلم کار اور موٹیویشنل لکھاری کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔معاشرتی و سیاسی موضوعات پر ان کی گہری نظر ہے اور وہ اپنے خیالات،مشاہدات اور تحریروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے قارئین تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ان کی تحریروں میں محض الفاظ کی آرائش نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے،سوچنے اور مثبت تبدیلی کی طرف متوجہ کرنے کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔اسی فکری مزاج کا عکس زیرِ نظر کتاب میں بھی پوری طرح دکھائی دیتا ہے۔
       کتاب کے علمی و فکری حسن کے ساتھ اس کی ظاہری پیش کش بھی توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے۔عمدہ کاغذ،نفیس طباعت اور خوش ذوق ترتیب کے ساتھ اس وقیع کاوش کو قارئین تک پہنچانے میں ملت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد افضل لون صاحب کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔کتاب کی دل آویز طباعت اس کے علمی وقار میں ایک خوش گوار اضافہ کرتی ہے اور اسے دیکھتے ہی ناشر کی حسنِ ذوق اور معیار پسندی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔بلاشبہ ایسی معیاری کتب کی اشاعت علم و ادب سے وابستگی کا وہ خاموش اظہار ہے جو دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔
        ظاہری حسن سے آگے بڑھیں تو کتاب کے پسِ پشت ایک گہری فکری تشویش بھی کارفرما نظر آتی ہے۔نوجوان نسل کے بدلتے رجحانات اور موٹیویشن کے موجودہ تصور کا مشاہدہ کرتے ہوئے مصنف کے ذہن میں جو سوالات اور خیالات پیدا ہوئے،انہوں نے بالآخر اس کتاب کی صورت اختیار کی۔مصنف دیباچے میں اپنی غرضِ تالیف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”الحمد للّٰہ،یہ کتاب”موٹیویشن اسپیکرز ایک حقیقت۔۔۔ایک فریب“ میری ان سوچوں کا نتیجہ ہے،جو موجودہ دور کے نوجوانوں کی حالت دیکھ کر میرے دل و دماغ میں پیدا ہوئیں۔آج کا نوجوان زندگی کے مسائل اور چیلنجز کے حل کے لیے موٹیویشنل اسپیکرز کی طرف دیکھتا ہے،جو اکثر محض خود ساختہ نظریات،جھوٹے وعدے،اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتے ہیں۔“(ص 13)
          مصنف کی اس تشویش کو سامنے رکھیں تو کتاب کی دو حصوں میں تقسیم بھی نہایت بامعنی محسوس ہوتی ہے۔ایک طرف وہ حقیقی موٹیویشن کی تلاش کرتے ہیں اور دوسری طرف اس مصنوعی موٹیویشن کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں جو نوجوانوں کو وقتی جوش تو دیتی ہے،مگر زندگی کی حقیقی تعمیر سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔چنانچہ کتاب کا پہلا حصہ”حقیقی موٹیویشن۔۔۔اُسوۂ رسولﷺ،23 سالہ نبویﷺ دور“ کے عنوان سے اسی بنیادی سوال کا جواب فراہم کرتا ہے کہ آخر حقیقی تحریک کا سرچشمہ کہاں ہے؟
           فاضل مصنف نے پہلے حصے میں موٹیویشن کے اس مصنوعی سراب کے مقابل حقیقی موٹیویشن کا سراغ سیرتِ رسولِ اکرمﷺ کے اس روشن و کامل نمونے میں تلاش کیا ہے،جس نے محض الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل،کردار،عزم اور مسلسل جدوجہد سے انسانوں کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔اسی لیے اس حصے میں عہدِ نبویﷺ کے مختلف گوشوں سے ایسے تابندہ اوصاف اور زندگی ساز اصول سامنے لائے گئے ہیں جو آج کے انسان،بالخصوص نوجوان نسل،کے لیے حقیقی تحریک،مضبوط کردار اور بامقصد زندگی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
        اس روشن سفر کا آغاز ایمان داری اور سچائی سے ہوتا ہے،جو ہر مضبوط شخصیت کی پہلی اینٹ ہے۔پھر اچھے اخلاق کی خوشبو،قیادت کی بصیرت اور قیادت کے عملی نمونے سامنے آتے ہیں۔اس کے بعد ایثار و بے غرضی،دلیری،رحم دلی،عزم و جذبہ،ضبطِ نفس اور اخلاص جیسے اوصاف سیرتِ طیبہ کے آئینے میں اس طرح نمایاں ہوتے ہیں کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ حقیقی موٹیویشن محض چند پُرجوش جملوں سے دل کو گرمانے کا نام نہیں،بلکہ اپنے باطن کو سنوارنے،کردار کو نکھارنے اور عمل کو مقصد سے ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔
         اسی فکری سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنف مثبت و پُرامیدی،اعتماد اور خدمت جیسے اوصاف کو اجاگر کرتے ہیں اور دوراندیشی و یقین،باہمی رابطے اور مشترکہ عمل کے ذریعے فرد سے معاشرے تک تعمیر و اصلاح کا ایک جامع تصور پیش کرتے ہیں۔پھر برداشت اور حکمتِ عملی،ذمہ داری و جواب دہی،عاجزی اور احترام جیسے پہلو اس حقیقت کو مزید روشن کرتے ہیں کہ کامیاب زندگی صرف بلند عزائم سے نہیں بنتی،بلکہ صبر،بصیرت،نظم،احساسِ ذمہ داری اور حسنِ سلوک بھی اس کی ناگزیر بنیادیں ہیں۔اسی ضمن میں انصاف اور مساوات اور قیاوت کے تسلسل کو بھی سمیٹا گیا ہے،یوں یہ حصہ نبوی منہج کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جو فرد کی تعمیر سے لے کر معاشرے کی تشکیل تک اپنا اثر رکھتے ہیں۔
           اس طرح حصۂ اوّل سیرتِ طیبہ کو محض تاریخ کے اوراق میں محفوظ ایک عظیم داستان کے طور پر نہیں دیکھتا،بلکہ اس کے اندر پوشیدہ ان چراغوں کو تلاش کرتا ہے جن کی روشنی آج بھی انسانی زندگی کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہے۔یہاں سیرت کا ہر پہلو ایک سبق،ہر واقعہ ایک رہنما اشارہ اور ہر نبوی وصف زندگی کو سنوارنے کا ایک عملی راستہ بن کر سامنے آتا ہے۔تئیس سالہ نبویﷺ جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حقیقی تبدیلی بلند بانگ دعوؤں سے نہیں بلکہ ایمان،کردار،نظم،قربانی،خدمت،قیادت اور مسلسل عمل سے وجود میں آتی ہے۔چنانچہ یہاں موٹیویشن محض لفظ نہیں رہتی،کردار بن جاتی ہے،جذبہ وقتی کیفیت نہیں رہتا،مسلسل جدوجہد بن جاتا ہے اور کامیابی محض ذاتی خواہش نہیں رہتی،بلکہ ایک عظیم مقصد سے وابستہ بامعنی سفر بن جاتی ہے۔
        لیکن جہاں حقیقی روشنی کا تعارف ہو،وہاں فریب کے اندھیروں کی نشان دہی بھی ضروری ہو جاتی ہے۔اسی لیے کتاب کا دوسرا حصہ”پُرفریب موٹیویشن۔۔۔نام نہاد موٹیویشنل اسپیکر“ کے عنوان سے اس چمک دمک کے پسِ پردہ چھپے فریب،مفادات اور ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتا ہے۔مصنف واضح کرتے ہیں کہ کامیابی کے حسین خواب،ذاتی ترقی کے دل فریب دعوے اور پُرجوش خطابات اگر کردار سازی،اجتماعی شعور اور حقیقی عمل سے خالی ہوں تو یہ سب ایک ایسے سراب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جس کے پیچھے چلنے والا منزل کے بجائے مزید بھٹکاؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
      اسی تناظر میں مصنف نے نام نہاد موٹیویشنل اسپیکرز کے دوغلے پن،مالی مفادات،بھاری فیسوں،فرضی کامیابیوں،برانڈنگ اور سوشل میڈیا کی شہرت سے لے کر تعلیمی و سرکاری اداروں میں اثر و رسوخ،رئیل اسٹیٹ،فاؤنڈیشنز،عطیات اور کاروباری مفادات تک مختلف پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی دکھایا ہے کہ کس طرح نوجوانوں کو اجتماعی جدوجہد اور حقیقی سماجی و سیاسی شعور سے دور رکھ کر انہیں صرف ذاتی کامیابی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔مصنف فریب کے مختلف پردوں کو ایک ایک کر کے ہٹاتے ہوئے قاری کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ظاہری چمک سے متاثر ہونے کے بجائے سچائی،عمل،اجتماعی ذمہ داری اور حقیقی کامیابی کے معیار پر ہر دعوے کو پرکھے۔
     اس طرح کتاب کا سفر سراب کی تمثیل سے شروع ہو کر سیرتِ نبویﷺ کی روشنی تک پہنچتا ہے اور پھر اسی روشنی کی مدد سے فریب کے پردوں کو چاک کرتا ہوا قاری کو ایک واضح نتیجے تک لے آتا ہے۔حقیقی موٹیویشن وہ نہیں جو چند لمحوں کے لیے انسان کے جذبات کو ابھار دے،بلکہ وہ ہے جو اس کے فکر و کردار کو بدل دے،اس کے قدموں کو مقصد کی سمت جما دے اور اسے مسلسل جدوجہد پر آمادہ رکھے۔
     بحیثیتِ مجموعی یہ کتاب محض موٹیویشنل اسپیکرز کے رجحان پر ایک تنقیدی نظر نہیں،بلکہ حقیقی تحریک اور مصنوعی موٹیویشن کے درمیان فرق واضح کرنے کی ایک فکر انگیز کوشش ہے۔مصنف نے ایک طرف سیرتِ رسولِ اکرمﷺ کی روشنی میں یہ بتایا ہے کہ حقیقی موٹیویشن ایمان،کردار،مقصدیت،عمل اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتی ہے،تو دوسری طرف نام نہاد موٹیویشن کے ان فریب کار پردوں کو بھی چاک کیا ہے جو نوجوانوں کو وقتی جوش تو دیتے ہیں،مگر حقیقی زندگی کی تعمیر سے دور کر دیتے ہیں۔اس اعتبار سے یہ کتاب خصوصاً نوجوانوں کے لیے ایک بیدار کن پیغام رکھتی ہے۔
        لہٰذا جو نوجوان موٹیویشن،کامیابی اور شخصیت سازی کے موجودہ تصورات کو سمجھنا،فریب اور حقیقت میں امتیاز کرنا اور سیرتِ رسولﷺ کی روشنی میں اپنی زندگی کو حقیقی مقصد سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں،انہیں یہ کتاب ضرور حاصل کر کے پڑھنی چاہیے۔شاید اس مطالعے کے بعد بہت سے چمکتے ہوئے سراب اپنی حقیقت کے ساتھ دکھائی دینے لگیں اور حقیقی منزل کی طرف جانے والا راستہ پہلے سے کہیں زیادہ صاف،روشن اور قابلِ اعتماد محسوس ہو۔
______________________________________
نام کتاب:موٹیویشنل اسپیکرز(ایک حقیقت ایک فریب)
نام مصنف:میاں زاہد اسلام انجم
صفحات:190
قیمت:390
ناشر:ملّت پبلشرز اینڈ ڈسٹریبوٹرس
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:9419561922

Comments

Post a Comment