زندگی بظاہر کتنی ہی آسودہ اور پُرسکون کیوں نہ دکھائی دے،اس کے پردے میں جھانکیں تو شاید ہی کوئی دل ایسا ملے جو کسی نہ کسی فکر،اضطراب یا آزمائش سے دوچار نہ ہو۔کوئی روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے تو کوئی مالی تنگی اور کاروباری مشکلات کے بھنور میں گرفتار،کسی کے کندھوں پر قرضوں کا بوجھ ہے تو کوئی بیماری کی اذیت سے بے چین ہے۔کہیں گھریلو ناچاقیاں سکون چھین رہی ہیں تو کہیں بیوی بچوں کی نافرمانی دل آزردہ کیے ہوئے ہے۔کسی کو دشمن کا خوف کھائے جا رہا ہے تو کوئی اپنے احباب و اقربا کی جدائی کا غم سینے میں لیے پھرتا ہے۔الغرض،اس پُرآشوب دور میں پریشانیوں کی صورتیں اگرچہ مختلف ہیں،مگر بے سکونی کا درد تقریباً سب کے دلوں میں یکساں ہے۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ دکھ سے نجات،اضطراب سے خلاصی اور زندگی میں سکون و اطمینان کی تلاش میں رہتا ہے۔وہ کبھی مال و دولت میں خوشی ڈھونڈتا ہے،کبھی آسائشوں میں،کبھی تعلقات میں اور کبھی دنیاوی کامیابیوں میں،مگر سوال یہ ہے کہ حقیقی خوشی کا سرچشمہ کہاں ہے؟ پریشانیوں سے نجات کا راستہ کیا ہے؟ اور وہ کون سے اصول ہیں جنہیں اختیار کر کے انسان آزمائشوں کے ہجوم میں بھی قلبی سکون اور زندگی کا اطمینان حاصل کر سکتا ہے؟
انہی بنیادی سوالات کا نہایت سادہ،مؤثر اور دل نشیں انداز میں جواب دینے والی کتاب’’خوش رہنے کے تیس اصول‘‘ ہے،جس کے مصنف عصرِ حاضر کے ممتاز عرب عالم،خطیب،ادیب،شاعر اور بین الاقوامی شہرت یافتہ جناب ڈاکٹر عائض القرنی ہیں۔آپ کی عالمی شہرت کا نمایاں سبب شہرۂ آفاق کتاب’’لا تحزن‘‘(غم نہ کریں) ہے،جس نے لاکھوں قارئین کے دلوں میں امید و حوصلے کی شمع روشن کی۔آپ حافظِ قرآن ہیں اور امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تصانیف تفسیر،حدیث،سیرت،ادب اور شاعری جیسے متنوع موضوعات پر مشتمل ہیں،جن میں’’آسان تفسیرِ قرآن‘‘ اور ’’اسوۂ عالم‘‘بھی قابلِ ذکر ہیں۔آپ کا اسلوبِ تحریر سادہ،دل نشیں اور پُراثر ہے،جو قاری کو پیچیدہ علمی مباحث میں الجھانے کے بجائے زندگی کی حقیقتوں سے قریب کرتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب محض خوش رہنے کے چند نسخوں کا مجموعہ نہیں،بلکہ انسانی زندگی کے مختلف مسائل،فکروں اور پریشانیوں کے درمیان قرآن و سنت کی روشنی میں ایک متوازن،پُرامید اور بامقصد زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہے۔مصنف نے اس مختصر مگر فکر انگیز رسالے میں زندگی کے نشیب و فراز سے نبرد آزما ہونے اور ناموافق حالات کے باوجود خوش و مطمئن رہنے کے لیے تیس ایسے اصول پیش کیے ہیں جو انسان کے فکر و نظر کو درست سمت عطا کرتے ہیں۔ان اصولوں کا حسن یہ ہے کہ یہ محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رہتے،بلکہ انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے،ماضی کے غم سے نکلنے،مستقبل کی بے جا فکر سے بچنے اور موجودہ زندگی کو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر بسر کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ خوشی محض حالات کے سازگار ہونے کا نام نہیں،بلکہ اصل خوش بختی یہ ہے کہ انسان ناموافق حالات میں بھی اپنے دل کو اللّٰہ تعالیٰ سے وابستہ رکھے،آزمائش میں صبر،نعمت میں شکر اور ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصود بنائے۔یہی وہ فکر ہے جو پریشانیوں کے درمیان بھی انسان کے دل میں امید کا چراغ روشن رکھتی ہے اور اسے زندگی کے مسائل کے سامنے ہمت ہارنے کے بجائے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
ان تیس اصولوں پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوش رہنا کوئی اتفاقی کیفیت نہیں،بلکہ ایک شعوری طرزِ زندگی ہے۔انسان اپنی سوچ،رویّے اور طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی لاکر زندگی کے بہت سے مسائل کا بہتر انداز میں سامنا کرسکتا ہے۔ڈاکٹر عائض القرنی صاحب اسی شعوری زندگی کی طرف قاری کا ہاتھ تھام کر لے جاتے ہیں اور اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ حقیقی اطمینان کا تعلق صرف بیرونی حالات سے نہیں،بلکہ انسان کے باطن،اس کے ایمان اور اپنے رب سے تعلق سے بھی ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس کے منیجنگ ڈائریکٹر،جناب ابو الاعلیٰ سید سبحانی صاحب بھی خصوصی تحسین کے مستحق ہیں،جنہوں نے عمدہ طباعت،معیاری کاغذ اور دیدہ زیب پیش کش کے ذریعے کتاب کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔آپ کی شخصیت شرافتِ نفس،سلیم الطبعی اور وسعتِ قلبی کا حسین مرقع ہے۔معیار پسندی آپ کا امتیازی وصف ہے،چنانچہ آپ کی مطبوعات علمی و فکری وقعت کے ساتھ طباعت اور پیش کش کے اعتبار سے بھی اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔
کتاب کا پیش لفظ معروف استاد و محقق ڈاکٹر محمود مرزا نے تحریر کیا ہے،جو الہ آباد یونیورسٹی کے شعبۂ عربی و فارسی میں بطور سینئر اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر مرزا عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد اور صاحبِ نظر محقق ہیں۔کتاب کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے وہ پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
”زیرِ نظر کتاب”ثلاثون سبباً للسعادة“ اصلاحی اور دعوتی فکر کا ایک روشن مظہر ہے۔عنوان ہی اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ مصنف نے انسانی زندگی میں حقیقی خوشی،اطمینان اور سعادت کے اسباب کو قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔یہ کتاب دراصل ان روحانی،اخلاقی اور نفسیاتی اصولوں کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں اختیار کر کے انسان اضطراب،بے چینی اور منفی طرز فکر سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔“(ص 7)
اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعادت الہ آباد یونیورسٹی کے شعبۂ عربی و فارسی کی ریسرچ اسکالر محترمہ زینب شمس نے حاصل کی ہے۔انہوں نے نہایت سلیس،شستہ اور دل نشیں اسلوب میں کتاب کا ترجمہ کیا ہے،جس سے ان کے گہرے علمی ذوق،پختہ ادبی صلاحیت اور فکری سنجیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ترجمے میں اصل کتاب کی روح،مفہوم اور اسلوب کو حتی الامکان برقرار رکھتے ہوئے اردو زبان کی شیرینی اور روانی کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے وہ پیش لفظ میں لکھتی ہیں:
”یہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر اصلاحِ نفس،تزکیہ قلب اور خوشگوار طرزِ زندگی کی بے شمار نکات سموئے ہوئے ہے۔“( ص 10)
فاضلِ مصنفِ کتاب اپنے مقدمے میں ایک مقام پر کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”یہ کتاب اپنی جسامت میں اس خوشبودار پودے ریحان کے مانند ہے،جو بظاہر بہت ہلکا پھلکا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو بہت عمدہ ہوتی ہے،چنانچہ آپ اسے میز کے دراز میں یا اپنے سرہانے پر رکھ سکتے ہیں۔“(ص 11)
فاضلِ مصنف نے 80 صفحات پر مشتمل اس مختصر مگر فکر انگیز کتاب کو تیس اصولوں میں نہایت سلیقے اور ترتیب سے تقسیم کیا ہے۔پہلا اصول’’غور و فکر کریں اور شکر ادا کریں‘‘کے عنوان سے مزین ہے،جس میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان زندگی کی نعمتوں پر غور کرے،اللّٰہ کی عطاؤں کو پہچانے اور شکوہ و شکایت کے بجائے شکر و امتنان کی روش اختیار کرے،کیوں کہ نعمتوں کا احساس ہی دل میں سکون اور زندگی میں اطمینان پیدا کرتا ہے۔
دوسرا اصول ’’جو گزر گیا سو گزر گیا‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف ماضی کے غموں اور تلخ یادوں کو دل پر سوار رکھنے کے بجائے انہیں فراموش کر کے حال کو سنوارنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کا درس دیتے ہیں۔ان کے نزدیک گزرے ہوئے لمحات پر مسلسل افسوس انسان کی قوتِ عمل کو کمزور کرتا ہے،جب کہ دانش مندی اسی میں ہے کہ ماضی سے سبق لیا جائے،مگر اس کی زنجیروں میں جکڑ کر حال اور مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے۔
تیسرا اصول ’’آج کا دن آپ ہی کا ہے‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسان ماضی کے غموں اور مستقبل کے اندیشوں میں الجھنے کے بجائے اپنے آج کو قیمتی بنائے۔گزرے کل کو بدلا نہیں جا سکتا اور آنے والے کل کا کسی کو علم نہیں،لہٰذا دانش مندی اسی میں ہے کہ آج کے لمحات کو مثبت سوچ،نیک اعمال اور پُرامید طرزِ زندگی کے ساتھ گزارا جائے۔
چوتھا اصول ’’مستقبل کی فکر چھوڑ دیں‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف انسان کو مستقبل کے اندیشوں اور بے جا فکرمندی سے نجات پانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ان کے نزدیک آنے والے کل کی فکر میں آج کا سکون برباد کرنا دانش مندی نہیں،بلکہ اللّٰہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا اور نتائج اسی کے سپرد کر دینا ہی قلبی اطمینان اور حقیقی سکون کا راستہ ہے۔
پانچواں اصول ’’بے جا تنقید کا سامنا کیسے کریں؟‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف یہ سبق دیتے ہیں کہ ہر تنقید کو دل پر لینے اور ہر اعتراض کا جواب دینے کے بجائے تحمل،خود اعتمادی اور وسعتِ ظرفی سے کام لینا چاہیے۔بے جا تنقید کو اپنی پریشانی کا سبب بنانے کے بجائے نظر انداز کرنا اور اپنی اصلاح کے پہلوؤں پر توجہ دینا ہی دانش مندی ہے۔
چھٹا اصول ’’کسی کے شکریے کا انتظار نہ کریں‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ نیکی اور بھلائی کا اصل حسن بے لوثی میں ہے۔دوسروں کے لیے کچھ کرتے وقت ان کی ستائش یا شکریے کی توقع نہ رکھیں،بلکہ اپنے عمل کو خلوصِ نیت سے انجام دیں،کیونکہ حقیقی اطمینان لوگوں کی پذیرائی کا محتاج نہیں ہوتا۔
ساتواں اصول”دوسروں پر مہربانی تسلی کا باعث ہوتی ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں یہ حقیقت اجاگر کرتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ بھلائی،ہمدردی اور مہربانی صرف ان کے لیے راحت کا سبب نہیں بنتی بلکہ خود انسان کے دل کو بھی سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے۔کسی غم زدہ کو تسلی دینا،پریشان حال کا سہارا بننا اور ضرورت مند کی مدد کرنا انسان کو اپنے دکھوں سے اوپر اٹھاتا اور زندگی میں خوشی و طمانیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں،دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا اپنے دل کی اداسی دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
آٹھواں اصول”کام کریں،خالی نہ بیٹھیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ فراغت اکثر انسان کے لیے پریشانی،مایوسی اور منفی خیالات کا دروازہ بن جاتی ہے۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ خود کو کسی مفید اور تعمیری کام میں مصروف رکھے،علم حاصل کرے،عبادت کرے،خدمتِ خلق کرے یا کوئی ایسا کام انجام دے جس سے اسے فائدہ پہنچے۔مصروفِ عمل زندگی انسان کو بے مقصد سوچوں سے بچاتی اور دل کو سکون و اطمینان عطا کرتی ہے۔
نواں اصول”نقال نہ بنیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں انسان کو دوسروں کی اندھی نقالی اور اپنی شخصیت سے بے اعتنائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ان کے نزدیک ہر انسان اپنی فطرت،صلاحیتوں اور مزاج کے اعتبار سے منفرد ہے،اس لیے دوسروں جیسا بننے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنی خوبیوں کو پہچانیں،اپنی شخصیت کو سنواریں اور اپنی زندگی اپنے حقیقی مزاج و صلاحیت کے مطابق بسر کریں۔یہی خود اعتمادی اور قلبی اطمینان کی راہ ہے۔
دسواں اصول”تقدیر پر ایمان رکھیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں واضح کرتے ہیں کہ تقدیر پر ایمان انسان کے دل کو بے چینی،حسرت اور بے جا فکر سے نجات دیتا ہے۔جو کچھ پیش آتا ہے اسے اللّٰہ کی مشیت اور حکمت کے تحت سمجھتے ہوئے انسان اپنی ذمہ داری ادا کرے،اسباب اختیار کرے اور نتیجہ اللّٰہ کے سپرد کر دے۔تقدیر پر پختہ یقین دل کو سكون،صبر اور اطمینان عطا کرتا ہے اور انسان کو ماضی کے افسوس اور مستقبل کی بے جا پریشانی سے بچاتا ہے۔
گیارہواں اصول”بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں امید،صبر اور اللّٰہ پر بھروسا رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ان کے نزدیک مشکلات زندگی کا مستقل حصہ نہیں،بلکہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی کی راہیں بھی کھلتی ہیں۔لہٰذا انسان کو آزمائشوں میں مایوس ہونے کے بجائے حوصلہ قائم رکھنا چاہیے،کیونکہ اندھیری رات کے بعد اجالا ضرور طلوع ہوتا ہے۔
بارہواں اصول”لیموں سے میٹھا شربت بنایئے“کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں سکھاتے ہیں کہ زندگی کی تلخیوں اور ناموافق حالات کو مایوسی کا سبب بنانے کے بجائے انہیں مثبت انداز میں قبول کر کے فائدے میں بدلا جائے۔عقل مند انسان مشکلات سے گھبراتا نہیں،بلکہ اپنی حکمت،صبر اور حوصلے سے انہی مشکلات میں کامیابی اور خوشی کے راستے تلاش کرتا ہے۔
تیرہواں اصول”بے قرار و بے کس کی فریاد سننے والی ذات اللّٰہ کی ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ پریشانیوں اور مصائب میں اللّٰہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا سہارا ہے۔جب دنیا کے تمام دروازے بند دکھائی دیں،تب بھی اللّٰہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،بلکہ دعا،توکل اور امید کے ساتھ اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے،کیونکہ وہی بے کسوں کی فریاد سنتا اور دلوں کو سکون عطا کرتا ہے۔
چودہواں اصول”اپنے گھر کو اپنے لیے کافی سمجھیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں گھر کی نعمت کو پہچاننے،اسے سکون و اطمینان کا مرکز بنانے اور بلا ضرورت دوسروں کے معاملات میں الجھنے سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ان کے نزدیک انسان کو اپنے گھر کے ماحول،اہلِ خانہ اور دستیاب نعمتوں میں خوشی تلاش کرنی چاہیے،کیونکہ حقیقی سکون دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بجائے اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں ہے۔
پندرہواں اصول”بدلہ صرف اللّٰہ دیتا ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف اس اصول میں سمجھاتے ہیں کہ دوسروں کی بھلائی کرتے وقت ان سے صلے یا شکریے کی امید نہ رکھیں،بلکہ ہر نیک عمل اللّٰہ کی رضا کے لیے انجام دیں۔اگر لوگ آپ کی قدر نہ کریں تب بھی دل برداشتہ نہ ہوں،کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا اور بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔
سولہواں اصول”ایمان ہی زندگی ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف کے نزدیک ایمان دل کی حقیقی زندگی اور روح کا سکون ہے۔ایمان انسان کو امید،حوصلہ اور مقصدِ حیات عطا کرتا ہے،جبکہ اس کے بغیر زندگی بے معنویت اور بے سکونی کا شکار ہو جاتی ہے۔
سترہواں اصول”شہد حاصل کیجیے لیکن چھتے کو نہ توڑیے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ زندگی میں فائدہ حاصل کرتے ہوئے دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں۔دانائی یہی ہے کہ اپنے مقاصد بھی حاصل ہوں اور دوسروں کے حقوق و جذبات بھی محفوظ رہیں۔
اٹھارہواں اصول”اللّٰہ کی یاد سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف کے مطابق حقیقی سکون مال و دولت میں نہیں بلکہ اللّٰہ کے ذکر اور اس سے مضبوط تعلق میں ہے،کیونکہ اسی کی یاد بے چین دلوں کو اطمینان بخشتی ہے۔
انیسواں اصول”لوگوں سے حسد نہ کریں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے اپنی نعمتوں کی قدر کریں،کیونکہ حسد دل کا سکون چھین لیتا ہے،جبکہ قناعت اور خیرخواہی انسان کو خوش و مطمئن رکھتی ہیں۔
بیسواں اصول”زندگی جیسی ہے ویسی ہی قبول کریں“کے عنوان سے ہے۔مصنف کی تلقین ہے کہ زندگی کے حقائق کو خوش دلی سے قبول کریں،ناموافق حالات پر کڑھنے کے بجائے صبر،قناعت اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔
اکیسواں اصول”مصیبت زدوں سے حوصلہ پایئے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ دوسروں کی آزمائشوں اور مشکلات کو دیکھ کر اپنی نعمتوں کی قدر کریں اور صبر و شکر کا دامن تھامے رکھیں۔
بائیسواں اصول”نماز۔۔۔نماز“ کے عنوان سے ہے۔مصنف کے نزدیک نماز دل کے سکون،روح کی طمانیت اور اللّٰہ سے قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،یہ پریشانیوں میں سہارا اور زندگی میں اطمینان عطا کرتی ہے۔
تئیسواں اصول”اللّٰہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللّٰہ پر کامل بھروسا رکھیں،کیونکہ وہی بہترین مددگار ہے اور اسی پر توکل دل کو سکون و اطمینان عطا کرتا ہے۔
چوبیسواں اصول”زمین میں چلیں پھریں اور غور کریں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف تلقین کرتے ہیں کہ دنیا میں سفر کریں،قدرت کے مناظر اور قوموں کے احوال میں غور کریں،اس سے فکر کو وسعت،دل کو تازگی اور زندگی کو نیا حوصلہ ملتا ہے۔
پچیسواں اصول”صبرِ جمیل اختیار کریں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف کے مطابق صبرِ جمیل یہ ہے کہ مصیبت میں واویلا اور شکوہ شکایت کے بجائے وقار،حوصلے اور اللّٰہ پر بھروسے کے ساتھ حالات کا سامنا کیا جائے۔
چھبیسواں اصول”ساری دنیا کا بوجھ اپنے سر نہ اٹھائیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف نصیحت کرتے ہیں کہ ہر مسئلے کی فکر میں خود کو ہلکان نہ کریں،بلکہ اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہیں اور باقی معاملات اللّٰہ کے سپرد کرکے پُرسکون زندگی گزاریں۔
ستائیسواں اصول”بے جا باتوں کو دل پر نہ لیں“ کے عنوان سے ہے۔مصنف نصیحت کرتے ہیں کہ لوگوں کی غیر ضروری باتوں اور بے جا تنقید کو دل پر نہ لیں،بلکہ نظرانداز کرکے اپنے ذہنی سکون اور خوشی کی حفاظت کریں۔
اٹھائیسواں اصول”رضا میں ہی بے نیازی ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ اللّٰہ کی عطا پر راضی رہنا اور قناعت اختیار کرنا انسان کو لالچ،حسرت اور دوسروں کی محتاجی سے آزاد کر کے حقیقی سکون عطا کرتا ہے۔
انتیسواں اصول”اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیے،اس جنت کی۔۔۔“ کے عنوان سے ہے۔مصنف یاد دلاتے ہیں کہ جنت کی نعمتوں اور ابدی خوشیوں کو یاد رکھیں،یہ یاد دنیا کی مشکلات میں صبر،نیکی اور اللّٰہ کی رضا کے لیے جدوجہد کا حوصلہ بخشتی ہے۔
تیسواں اصول”اللّٰہ تعالیٰ نے ہم کو ایک معتدل امت بنایا ہے“ کے عنوان سے ہے۔مصنف سمجھاتے ہیں کہ اسلام اعتدال،توازن اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے،لہٰذا افراط و تفریط سے بچ کر زندگی کے ہر معاملے میں متوازن طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
کتاب کے اختتام پر مصنف قارئین کے ذہن میں ابھرنے والے ایک اہم سوال، یعنی”اس کتاب سے استفادہ کیسے کیا جائے؟“ کا نہایت تسلی بخش جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”اس کتاب سے آپ اسی وقت استفادہ کر سکتے ہیں جب کہ اس میں لکھی باتوں کو اپنے گھر،کاروبار اور زندگی میں نافذ کریں۔آپ اس کے ذریعہ اپنی موجودہ زندگی سے بہت بہتر خوشگوار اور پاکیزہ زندگی گزار سکتے ہیں جو آپ کو نعمتوں والی جنت کی پرسکون و دائمی زندگی کی مستحق بنادے گی۔“(ص 77)
بحثیتِ مجموعی ’’خوش رہنے کے تیس اصول‘‘ ایک دل نشیں،فکر انگیز اور زندگی کو سنوارنے والی کتاب ہے،جو ہمیں خوشی کا راز حالات کی موافقت میں نہیں،بلکہ ایمان، شکر،صبر،قناعت اور توکل میں دکھاتی ہے۔ضرورت ہے کہ اسے محض پڑھ کر نہ چھوڑا جائے،بلکہ اس کے پیغامات کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے،کیونکہ حقیقی استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب علم عمل میں ڈھلے۔یقیناً جو شخص ان اصولوں کو اخلاص کے ساتھ اپنائے گا،وہ اپنی زندگی میں سکون کی روشنی محسوس کرے گا اور دوسروں کے لیے بھی خوشی و امید کا سبب بنے گا۔آئیے،اس کتاب کو پڑھیں،اس پر عمل کریں اور خوشی کے ان روشن پیغامات کو اپنے گردوپیش تک پہنچائیں۔ان شاء اللّٰہ،یہی کوشش ہماری زندگی کو زیادہ مطمئن،متوازن اور بامقصد بنا دے گی۔
______________________________________
کتاب کا نام:خوش رہنے کے تیس اصول
مصنف:ڈاکٹر عائض القرنی
اردو ترجمہ:زینب شمس
صفحات:80
قیمت:100
ناشر:ھدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:9891051676
Comments
Post a Comment