شیخ العالم حضرت نور الدین ولیؒ:حیات،خدمات اور تعلیمات از خاکی محمد فاروق____ایک تعارف


        کشمیری تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک ایسی روشن کہکشاں نگاہوں کے سامنے آتی ہے جس میں کئی درخشاں ستارے اپنی ایثار و قربانی،دعوت و تبلیغ اور بے لوث جدوجہد سے وادیٔ کشمیر کے افق کو منور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ وہ مردانِ حق تھے جنہوں نے اپنی آسائشوں،وطنوں اور اپنوں کو خیرباد کہہ کر ہجرت کی سنت کو زندہ کیا اور ایک عظیم مقصد کی خاطر دور دراز خطوں سے کشمیر کا رُخ کیا۔ان کی شب و روز کی جدوجہد کا مرکز نہ دنیا کی طلب تھی،نہ نام و نمود،ان کا واحد مقصد یہ تھا کہ اللّٰہ سے دور اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکتے انسانوں تک اسلام کا نور پہنچایا جائے اور انہیں صراطِ مستقیم سے آشنا کیا جائے۔

      یہ وہ زمانہ تھا جب وادیٔ کشمیر میں اسلام کی روشنی ابھی پوری طرح جلوہ گر نہیں ہوئی تھی اور بدھ مت،کفر و شرک اور مختلف باطل رسوم و عقائد کا غلبہ تھا۔ایسے ماحول میں بیرونِ کشمیر سے آنے والے خدا رسیدہ بزرگوں نے اپنے کردار،دعوت،اخلاق اور مسلسل جدوجہد سے اسلام کی شمع روشن کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی مخلصانہ کوششوں کو شرفِ قبول بخشا،ان کی دعوت میں اثر پیدا کیا اور رفتہ رفتہ دلوں کی دنیا بدلنے لگی۔دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے سعادت مند انسان اسلام کے نور سے منور ہوئے اور کشمیر کی سرزمین پر توحید کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
         اس مبارک دعوتی سلسلے میں سب سے نمایاں ابتدائی شخصیات میں حضرت عبد الرحمن المعروف بلبل شاہؒ کا نام آتا ہے،جنہوں نے کشمیر میں اسلام کی دعوت کو ایک نئی سمت عطا کی۔ان کے بعد حضرت میر سید علی ہمدانیؒ نے اس دعوتی مشن کو وسعت دی اور اپنی غیر معمولی دعوتی بصیرت،روحانی اثر اور ہمہ گیر جدوجہد سے کشمیر کی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔حضرت امیر کبیرؒ نے نہ صرف خود اس عظیم مشن کو آگے بڑھایا بلکہ اپنے فرزندِ ارجمند حضرت میر محمد ہمدانیؒ کو بھی اسی دعوتی کارواں کا سپاہی بنایا۔میر محمد ہمدانیؒ نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے دعوت و اصلاح کے میدان میں اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں۔
        اسی مبارک سلسلۂ دعوت و اصلاح کی ایک تابناک کڑی حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ کی ذاتِ گرامی ہے،جنہیں کشمیر کی دینی و روحانی تاریخ میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔آپ بلند پایہ صوفی مصلح اور داعی حق تھے،جنہوں نے اپنے پاکیزہ کردار،مؤثر دعوت اور حکمت آمیز کلام کے ذریعے اہل کشمیر کے دلوں میں اسلام کی محبت اور دینی شعور کو بیدار کیا۔
       آپؒ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی دعوت و اصلاح کا محور بنایا اور انسانوں کو توحید،تقویٰ،اخلاص اور نیک عملی کی طرف متوجہ کیا۔حالات کی سختیوں اور مشکلات کے باوجود آپ نے دعوت و تبلیغ کا یہ فریضہ پوری استقامت سے جاری رکھا اور اپنی زندگی کو اصلاح معاشرہ اور خدمت دین کے لیے وقف کر دیا۔
     شیخ العالم حضرت نور الدین نورانیؒ کی اسی ہمہ گیر شخصیت،دعوتی جدوجہد اور اصلاحی خدمات کو کشمیر کے معروف قلم کار جناب خاکی محمد فاروق صاحب نے اپنی گراں قدر کتاب’’شیخ العالم حضرت نور الدین ولیؒ:حیات،خدمات اور تعلیمات‘‘میں نہایت جامع انداز میں اجاگر کیا ہے۔کتاب کے اوراق پلٹتے ہوئے حضرت شیخؒ کی حیات کے مختلف گوشے،دعوتی و اصلاحی خدمات اور فکر و تعلیمات کے کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں،جن کا مختصر جائزہ یقیناً قارئین کے لیے دلچسپی اور افادیت سے خالی نہ ہوگا۔
      خاکی محمد فاروق صاحب تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی خاصے سرگرم اور متحرک ہیں۔ان کی تحریری کاوشوں کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ موضوع کے انتخاب میں روایت سے ہٹ کر ایسے گوشوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو اہم ہونے کے باوجود عام طور پر اہلِ قلم کی توجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔پھر جب وہ کسی موضوع کو قلم کا موضوع بناتے ہیں تو تحقیق،مطالعے اور دل نشین اسلوب کے ساتھ اس کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرتے ہیں کہ قاری بے اختیار اعتراف کرتا ہے کہ مصنف نے واقعی موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔
       زیرِ نظر کتاب اسی دعوے کی ایک روشن اور زندہ مثال ہے۔اس میں حضرت شیخ نور الدین ولیؒ کی حیات،خدمات،دعوتی جدوجہد اور تعلیمات کو جس جامعیت اور سلیقے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،وہ خاکی صاحب کی علمی کاوش،وسیع مطالعے اور اپنے موضوع سے گہری وابستگی کا آئینہ دار ہے۔
     کتاب کی اشاعت کا مرحلہ بھی کم قابلِ ذکر نہیں۔خاکی محمد فاروق صاحب کے فرزندِ ارجمند،جناب خاکی عمر فلاحی نے اسے اپنے اشاعتی ادارے”مکتبہ اسلامیہ‘‘کے زیرِ اہتمام نہایت اہتمام،سلیقے اور حسنِ طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔دیدہ زیب طباعت اور دلکش پیش کش نے کتاب کی معنوی خوب صورتی کو ظاہری حسن بھی عطا کر دیا ہے،جس سے یہ کتاب علمی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے مزید جاذبِ نظر بن گئی ہے۔
      کتاب کا پیشِ لفظ وادیٔ کشمیر کے معروف اسکالر،صاحبِ قلم اور مصنف جناب ڈاکٹر غلام قادر لون نے تحریر کیا ہے۔ان کے قلم سے نکلے ہوئے یہ ابتدائی کلمات کتاب کی اہمیت،موضوع کی معنویت اور مصنف کی علمی کاوش کو سمجھنے کے لیے ایک مؤثر تمہید فراہم کرتے ہیں۔وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
        ”کشمیر میں شیخ نور الدین ولیؒ کے کلام سے واعظین نے استفادہ کیا ہے۔ان کے کلام کو کتابی شکل میں شایع کیا گیا ہے۔لیکن اس ریاست میں دعوتی کام بستی بستی کس طرح حضرت شیخ نورالدینؒ نے انجام دیا۔اس کی تفصیل اکٹھے کسی ایک کتاب میں پڑھنے کو عام لوگوں کے لیے مہیا نہیں ہے۔خاکی محمد فاروق صاحب نے بڑی محنت سے اس کام کو انجام دیا ہے۔ایک طرف تحریکِ اسلامی کے ہمہ وقت کارکن کی حیثیت سے تنظیمی کام انجام دینا اور پھر کوشش اور محنت کر کے اس کام کے لیے وقت نکالنا یقیناً ان کے جذبہ نیک اور وسعتِ مطالعہ کے شوق کی کھلی دلیل ہے۔“(ص 16-15)

      مصنف نے ۲۸۰ صفحات پر مشتمل اس گراں قدر کتاب کو چار ابواب میں نہایت حسنِ ترتیب کے ساتھ تقسیم کیا ہے۔پہلا باب’’حضرت شیخؒ کی ابتدائی زندگی اور ان کی دعوت کے اصول و آداب‘‘کے عنوان سے ہے،جو حضرت شیخ العالمؒ کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی دعوتی جدوجہد کے اہم پہلوؤں کا جامع احاطہ کرتا ہے۔
       اس باب کا آغاز ریشیت کے مفہوم اور اس کے معنی سے ہوتا ہے،پھر مصنف حضرت شیخ العالمؒ کے عہد،خاندان اور ان کے والدین کے قبولِ اسلام کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے ان کی ولادت،بچپن اور شادی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس کے بعد حضرت شیخؒ کی غار نشینی،ان کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ ہونے والے ایمان افروز مکالمات،تازی بھٹ کے قبولِ اسلام اور غار نشینی سے توبہ کے واقعات کو نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔یوں مصنف حضرت شیخؒ کی زندگی کے ان مراحل کو سامنے لاتے ہیں جو ان کی شخصیت کی تشکیل اور بعد کی دعوتی زندگی کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
       باب کا دوسرا حصہ حضرت شیخؒ کی دعوتِ دین اور اس کے اصول و آداب سے متعلق ہے۔مصنف نے ان کی دعوت کے بنیادی اصولوں میں توحید،رسالت،فکرِ آخرت،اتباعِ قرآن،اسلامی فرائض کی پابندی اور عالم گیر اخوت کو نمایاں کیا ہے۔اس کے ساتھ دعوت کے آداب اور اسلوبِ کار پر بھی گفتگو کی گئی ہے،جس سے حضرت شیخؒ کے دعوتی منہج کی جامعیت،حکمت اور وسعتِ نظر نمایاں ہوتی ہے۔
       آخر میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ اور حضرت شیخؒ کے طریقۂ کار کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے دونوں کے طریقۂ دعوت پر ایک نظر ڈالی ہے۔اس طرح یہ باب محض حضرت شیخؒ کی سوانحی زندگی کا بیان نہیں رہتا،بلکہ ان کی شخصیت کے باطن،ان کے فکری ارتقا اور دعوتی منہج کی تشکیل کا ایک بامعنی اور چشم کشا مطالعہ بن جاتا ہے۔

     پہلے باب میں حضرت شیخ نور الدین ولیؒ کی شخصیت اور عہد کے حالات کے تعارف کے بعد مصنف دوسرے باب بعنوان”حضرت شیخ نور الدین ولیؒ تبلیغی زندگی آغاز سے آخر تک“میں ان کی تبلیغی زندگی کے آغاز سے اختتام تک کا ایمان افروز سفر پیش کرتے ہیں۔بابا نصر الدینؒ کے قبولِ اسلام سے شروع ہونے والی یہ داستان حضرت شیخؒ کی سیر و سیاحت،شاہ آباد،دیوسر کولگام،ژمر نور آباد،پانپور،سری نگر،بارہ مولہ،بیروہ بڈگام اور روپہ ون سمیت مختلف علاقوں میں دعوتی سرگرمیوں کو محیط ہے۔
        مصنف نے بابا بام الدینؒ،زین الدین ولیؒ،تولی رینہ،لدی رینہ،یاون مزی،دتہ بی بی،کئی پنڈتوں اور دیگر افراد کے قبولِ اسلام کے واقعات بھی ذکر کیے ہیں۔ساتھ ہی دشمنانِ حق کی مخالفت،حضرت شیخؒ کے خلاف سازشیں اور قتل کی کوشش جیسے واقعات سے اس دعوتی سفر کی مشکلات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
        باب کا اہم حصہ دوسرے داعیانِ اسلام سے روابط،حضرت میر محمد ہمدانیؒ سے ملاقات،قیادت کی ذمہ داری ملنا اور خطِ ارشاد ہے۔اس کے علاوہ مرکزی دعوتی مراکز کا قیام و منتقلی،مولانا نائک کی توبہ،روپہ ون کے اطراف میں تبلیغی کام،چرار شریف کا مرکز اور شعبۂ خواتین جیسے پہلو بھی اس جدوجہد کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
      آخر میں قبولِ اسلام اور توبہ کے متعدد واقعات کے ذریعے دعوت کے ثمرات دکھاتے ہوئے حضرت شیخؒ کے انتقال اور ان کی شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے۔یوں یہ باب حضرت شیخؒ کی مسلسل دعوتی جدوجہد،اس کے اثرات،مخالفتوں،تنظیمی حکمتِ عملی اور دعوتی رفقا سے تعلقات کی ایک جامع تصویر پیش کرتا ہے۔

       تیسرا باب”حضرت شیخ العالم ؒ کی تبلیغی تحریک کے ارکان و رفقاء“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت شیخ العالمؒ کی عظیم تبلیغی تحریک کے ان مخلص خلفاء،ارکان اور رفقاء کا تعارف کرایا ہے جنہوں نے دعوتِ حق کے اس مشن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔پہلے باب میں شخصیت کا تعارف اور دوسرے باب میں ان کی تبلیغی جدوجہد کا نقشہ پیش کرنے کے بعد یہ باب گویا اسی دعوتی کارواں کے ان افراد کو سامنے لاتا ہے جو حضرت شیخؒ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے۔
     مصنف نے حضرت شیخؒ کے خلفائے کرام،بابا بام الدینؒ،تین شرابیوں،سلطان سکندر کے فرزند کے بابا بام الدینؒ کی خدمت میں حاضر ہونے، بابا زین الدین ولیؒ،بابا لطیف الدینؒ اور بابا نصر الدینؒ کے حالات و خدمات کا ذکر کیا ہے۔ان شخصیات کے تذکرے کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت شیخؒ کی دعوت محض ایک فرد کی جدوجہد نہ تھی،بلکہ ان کے گرد ایک ایسا مخلص دعوتی حلقہ تشکیل پا چکا تھا جو مختلف طبقات اور علاقوں تک پیغامِ حق پہنچانے میں سرگرم تھا۔
        آخر میں مصنف نے ریشی تحریک کے دیگر ارکان و رفقاء کا بھی ذکر کیا ہے،یوں اس باب میں حضرت شیخؒ کی تحریک کے ان معاونین اور جان نثار ساتھیوں کی ایک جھلک سامنے آتی ہے جنہوں نے اس دعوتی مشن کو مضبوط بنانے اور اسے آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ادا کیا۔یہ باب دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک عظیم دعوتی تحریک صرف ایک عظیم قائد سے نہیں،بلکہ مخلص رفقاء،وفادار ساتھیوں اور باصلاحیت داعیان کے باہمی تعاون سے اپنی منزل کی طرف بڑھتی ہے۔

     چوتھا باب ’’حضرت شیخ العالمؒ کے افکار و تعلیمات‘‘ کے عنوان سے ہے،جس میں مصنف نے حضرت شیخ نور الدین ولیؒ کی فکری و اصلاحی میراث کو نہایت جامع انداز میں سمیٹا ہے۔پہلے حضرت شیخؒ کی شاعری کو کتاب و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے اس کے دعوتی و اصلاحی پہلو نمایاں کیے گئے ہیں،پھر توحید و رسالت،عشقِ الٰہی،آخرت کی فکر،ذکرِ موت،اتباعِ قرآن،حصولِ علم اور دعوت و تبلیغ جیسے بنیادی موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
        اس کے بعد خلفائے راشدینؓ،علماء کی ذمہ داریاں،اخوت و ملت،مسلمانوں کی غفلت،نفس پرستی،صبر و استقامت،اخلاص و للہیت،ذکر و فکر،توبہ،صحبتِ صالحین اور عجز و انکساری جیسے موضوعات کے ذریعے حضرت شیخؒ کے اصلاحی پیغام کی وسعت واضح کی گئی ہے۔ساتھ ہی معاشرتی برائیوں کی اصلاح کے لیے قرض و سود،رزقِ حرام،بے حیائی،جھوٹ،حق تلفی،غیبت،کبر و غرور اور غصے جیسے امراض کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
          یوں یہ باب حضرت شیخؒ کی تعلیمات کا ایک ایسا جامع آئینہ بن جاتا ہے جس میں فرد کی روحانی تربیت سے لے کر معاشرے کی اخلاقی اصلاح تک ہر پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے۔آخر میں حضرت شیخؒ پر ہونے والے تصنیفی کام،ضمیمے اور مصادر و مآخذ کا ذکر آتا ہے جس سے کتاب کی تحقیقی جہت بھی نمایاں ہوتی ہے۔

      بحیثیتِ مجموعی فاضل مصنف کی یہ کتاب حضرت شیخ نور الدین ولیؒ کی حیات،دعوتی و تبلیغی جدوجہد،اصلاحی خدمات اور افکار و تعلیمات کا ایک نہایت فکر انگیز،عمدہ اور قابلِ قدر مطالعہ ہے۔ہمارے ہاں بزرگانِ دین کا تذکرہ عموماً ان کی کرامات،کشف و خوارق اور عقیدت کے رنگ میں ہوتا رہا ہے،جس کے باعث ان کی دعوتی جدوجہد،اصلاحی فکر،عملی زندگی اور معاشرے کی تعمیر و تطہیر کے وہ پہلو پسِ پردہ چلے جاتے ہیں جو دراصل ان کے پیغام کی روح ہوتے ہیں۔خاکی محمد فاروق صاحب نے اس کتاب میں اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے حضرت شیخؒ کو محض ایک صاحبِ کرامت بزرگ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک عظیم داعی،مصلح،مربی اور صاحبِ فکر شخصیت کی حیثیت سے ہمارے سامنے رکھا ہے۔ان کی دعوتی مساعی،تبلیغی کارناموں،اصلاحی خدمات،رفقاء و خلفاء اور افکار و تعلیمات کو جس محنت،تحقیق،عقیدت اور سلیقۂ نگارش کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے،اس نے کتاب کو محض ایک سوانحی تذکرہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکر و عمل کی ایک زندہ دستاویز بنا دیا ہے۔خصوصاً ایسے دور میں جب نئی نسل اپنے دینی و تاریخی ورثے سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہے،یہ کتاب حضرت شیخؒ کے اصل کارناموں اور ان کے اصلاحی پیغام سے نئی نسل کو جوڑنے کی ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔
       حضرت شیخؒ کی زندگی اور تعلیمات آج بھی دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم افراد کے لیے رہنمائی کا روشن مینار بن سکتی ہیں،ان کا پیغام دلوں کو اللّٰہ سے جوڑنے،کردار کو سنوارنے،دین سے وابستگی مضبوط کرنے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔بلاشبہ اس کتاب کے مطالعے سے حضرت شیخؒ کی شخصیت سے شناسائی ہی نہیں بڑھتی بلکہ قاری کے اندر دین کی سربلندی،دعوت و اصلاح،پاکیزہ کردار اور اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔یہی اس کتاب کا اصل امتیاز اور اس کی سب سے بڑی قدر و قیمت ہے اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے اس عظیم داعی،عالم اور مصلح کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے خواہش مند ہر صاحبِ ذوق قاری کے لیے یہ کتاب ایک مفید مطالعہ ہی نہیں بلکہ فکر کو جِلا،عمل کو مہمیز اور زندگی کو مقصد کی سمت دینے والی ایک قیمتی دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔
       اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان عظیم اسلاف کی سیرت و کردار سے صحیح معنوں میں روشنی حاصل کرنے،ان کی دینی و دعوتی میراث کو اخلاص کے ساتھ آگے بڑھانے،ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ایمان و عمل کی اس روشن راہ پر آخری سانس تک ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اور حضرت شیخؒ کی طرح دین کی خدمت،اصلاحِ معاشرہ اور دعوتِ حق کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

______________________________________

کتاب کا نام:شیخ العالم حضرت نور الدین ولیؒ:حیات،خدمات اور تعلیمات
مصنف:خاکی محمد فاروق
  صفحات:280
قیمت:350
ناشر:مکتبہ اسلامیہ نوگام سرینگر
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:7006531215



Comments