تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغِ دین،دعوت و اصلاح اور ابلاغِ حق ہی رہی ہے۔قرآنِ مجید نے امتِ مسلمہ کو بھی اسی عظیم ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہوئے اسے خیر کی دعوت دینے،نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کا فریضہ سونپا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو دیگر امتوں پر جو امتیاز حاصل ہوا،اس کے اسباب میں فریضۂ دعوت کی ادائیگی ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔دعوتِ دین محض ایک دینی سرگرمی نہیں،بلکہ اصلاحِ فرد،تعمیرِ معاشرہ،استحکامِ دین اور بقا و دوامِ شریعت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے علماء،مصلحین اور صلحائے امت نے کبھی اس عظیم فریضے سے غفلت نہیں برتی۔صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم نے دعوتِ دین کا حق جس اخلاص،ایثار،حکمت اور جانفشانی کے ساتھ ادا کیا،وہ تاریخِ انسانیت کا ایک بے مثال باب ہے۔ان کے بعد تابعینؒ،تبع تابعینؒ،مفسرینؒ،محدثینؒ،فقہائے کرامؒ اور اولیائے عظامؒ نے اپنے اپنے عہد کے حالات و تقاضوں کے مطابق دعوت و اصلاح کا یہ سلسلہ آگے بڑھایا۔انہوں نے اپنے علم کو عمل سے،اپنے کردار کو دعوت سے اور اپنی زندگیوں کو پیغامِ حق کی ترجمانی سے وابستہ رکھا۔انہی مردانِ خدا کی جدوجہد نے مختلف خطوں میں اسلام کے نور کو عام کیا اور دلوں کو توحید و رسالت کی روشنی سے منور کیا۔
برصغیر کی تاریخِ دعوت و اصلاح میں بھی ایسے بے شمار درخشاں کردار نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت،روحانی اثر پذیری،حسنِ اخلاق اور مسلسل جدوجہد سے ایک پورے عہد کی فکری و دینی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہی بلند پایہ داعیانِ حق اور عظیم مصلحین کی صف میں ایک تابندہ نام حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کا ہے،وہ شخصیت جن کی علمی،دعوتی،اصلاحی اور روحانی خدمات نے خطۂ کشمیر سمیت برصغیر کی دینی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔
میر سید علی ہمدانیؒ محض ایک بزرگ یا صاحبِ نسبت شخصیت ہی نہیں تھے،بلکہ وہ ایک صاحبِ علم داعی،صاحبِ فکر مصلح اور دین کی سربلندی کے لیے سرگرمِ عمل مردِ حق تھے۔ان کی زندگی دعوت،اصلاح،تعلیم،تزکیہ اور خدمتِ دین کے مختلف پہلوؤں کا حسین امتزاج دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے اپنے علم و کردار اور دعوتی بصیرت کے ذریعے جس دینی و تہذیبی شعور کو فروغ دیا،اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ان کی شخصیت اور خدمات کا مطالعہ دراصل ایک ایسے عہد کے مطالعے کے مترادف ہے جس میں دین کی دعوت نے فکر،کردار اور معاشرتی زندگی کو گہرائی سے متاثر کیا۔
اسی عظیم شخصیت کے احوالِ زندگی،علمی و دعوتی خدمات اور دینی تعلیمات کو موضوع بناتے ہوئے خاکی محمد فاروق صاحب نے اپنی کتاب”میر سید علی ہمدانی:حیات،خدمات اور تعلیمات“ کے ذریعے ایک اہم علمی و تحقیقی کاوش پیش کی ہے۔یہ کتاب محض ایک تاریخی شخصیت کا تعارف نہیں،بلکہ ایک ایسے مردِ حق کی زندگی،جدوجہد اور دعوتی فکر کو سمجھنے کی کوشش ہے جس نے اپنے عہد میں دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
خاکی محمد فاروق صاحب کشمیر کے ان بلند پایہ داعیانِ دین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دعوتِ دین کے میدان میں قولی شہادت کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد کا پرچم بھی پوری حساسیت،بصیرت اور اخلاص کے ساتھ بلند کر رکھا ہے۔ان کی تحریروں میں دعوت کی تڑپ،فکر کی پختگی اور استدلال کی قوت نمایاں نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف نے عوام و خواص میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہیں۔ان کا اسلوبِ بیان نہایت جامع،شستہ اور دل نشیں ہے،جسے مستند علمی حوالوں کی مضبوط پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔زیرِ نظر کتاب بھی ان کی اسی علمی و دعوتی کاوش کا ایک روشن نمونہ ہے۔
یہ گراں قدر کتاب ان کے فرزندِ ارجمند،جناب خاکی عمر فلاحی صاحب نے اپنے ادارے مکتبہ اسلامیہ،نوگام،سرینگر سے نہایت دیدہ زیب،عمدہ اور شاندار انداز میں شائع کی ہے۔کتاب کی طباعت و پیش کش میں جو حسنِ ذوق اور سلیقہ مندی نظر آتی ہے،وہ اس کی علمی قدر و قیمت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
کتاب کا پیش لفظ تحریکِ اسلامی کی ایک قدآور اور مایہ ناز شخصیت مرحوم شیخ محمد حسنؒ نے رقم فرمایا ہے،وہ عظیم داعی جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اقامت دین کے مشن کی آبیاری کی اور دعوت و فکر کے میدان میں اپنی گراں قدر خدمات کے نقوش چھوڑے۔وہ نہ صرف تحریک اسلامی کے مخلص سپاہی تھے بلکہ قلم کے شہسواروں کی صف میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ماضی قریب میں جب وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے تو ایک عہد رخصت ہوا۔اسی علمی و فکری بصیرت کے ساتھ وہ کتاب کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں:
”عزیز گرامی خاکی محمد فاروق صاحب نے بڑی دیدہ ریزی سے حضرت سیّد الساداتؒ کی مبارک حیات اور اس کے داعیانہ کارناموں کے حوالے سے مختلف کتب سے خوشہ چینی کرتے ہوئے یہ کتاب ترتیب دی ہے۔عزیز موصوف خود بھی داعی دینِ حق ہیں اور بڑے ہی بلند ہمت ہے۔یہ تالیف ان کی بلند ہمتی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔“(ص 17)
مصنف نے ۳۷۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ۱۸ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب’’عالمِ اسلام حضرت امیر کبیرؒ کے عہد میں‘‘ کے عنوان سے ہے،جس میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کے عہد کے عالمِ اسلام کا ایک جامع تاریخی نقشہ پیش کیا ہے۔ابتدا میں عالمِ اسلام پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اس دور کے سیاسی و تاریخی حالات کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے،پھر منگولوں کے فتنے،بغداد کی تباہی اور منگولوں کے قبولِ اسلام جیسے اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔اس کے بعد ایل خانی حکومت،سرائے کی سلطنت،دہلی کی سلطنت اور مسلمانوں کی دیگر حکومتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس عہد کی سیاسی صورتِ حال کو واضح کیا گیا ہے۔مصنف نے صرف سیاسی تاریخ ہی کو موضوعِ بحث نہیں بنایا،بلکہ اس دور کی دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں،اہم شخصیات اور اسلامی علوم و فنون کا بھی ذکر کیا ہے،جس سے اس زمانے کی علمی،فکری اور دعوتی زندگی کی ایک مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔یوں یہ باب محض واقعات کا بیان نہیں رہتا بلکہ قاری کو اس عہد کے سیاسی نشیب و فراز،علمی عروج،دعوتی جدوجہد اور تہذیبی منظرنامے سے روشناس کراتا ہے اور حضرت امیر کبیرؒ کے عہد کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط تاریخی پس منظر فراہم کرتا ہے۔
دوسرا باب ’’میر سید علی ہمدانیؒ ولادت سے نکاح تک‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی ابتدائی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت ترتیب سے پیش کیا ہے۔آپؒ کے نام،ولادت و وطن،خاندان،بچپن،تعلیم و تربیت کے حالات بیان کرنے کے بعد آپؒ کی سیر و سیاحت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔آخر میں وطن واپسی،مراجعت اور نکاح تک کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔یوں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کی زندگی کے ابتدائی دور کا ایک مختصر مگر جامع خاکہ سامنے رکھ دیا ہے۔
تیسرا باب’’کشمیر کے حالات پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے اسلام سے پہلے کشمیر کے حالات کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے اس دور کی سیاسی،مذہبی اور اخلاقی صورتِ حال کو نمایاں کیا ہے۔اس کے بعد حضرت امیر کبیرؒ کے زمانۂ ورودِ کشمیر کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے،تاکہ قاری اس عہد کے کشمیر کے مجموعی پس منظر کو سمجھ سکے۔یوں یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی آمد سے قبل کشمیر کی سیاسی،مذہبی اور اخلاقی کیفیت کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے،جو آگے آنے والی دعوتی و اصلاحی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
چوتھا باب”میر سید علی ہمدانیؒ نے کشمیر کی طرف توجہ فرمائی“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی کشمیر کی جانب توجہ اور آمد کے حالات کو بیان کیا ہے۔آپؒ نے کشمیر میں پہنچ کر جس طرح دعوت و اصلاح کا عملی آغاز کیا،اس کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں۔اس ضمن میں سید حسین سمنانیؒ اور شیخ سلیمانؒ جیسی اہم شخصیات کا ذکر بھی ملتا ہے،جبکہ بعض واقعات کے ذریعے حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتی بصیرت،اصلاحی جدوجہد اور اثر انگیزی کو نمایاں کیا گیا ہے۔یوں یہ باب کشمیر میں آپؒ کی آمد اور دعوتی مشن کے ابتدائی نقوش کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
پانچواں باب”میر سید علی ہمدانیؒ کا پہلا دورۂ کشمیر“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے آپؒ کی کشمیر آمد،یہاں قیام اور دعوتی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔حضرت امیر کبیرؒ کی کشمیر میں آمد،آپؒ کی مصروفیات،مختلف مقامات کا سفر مختصر مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔یوں یہ باب کشمیر میں حضرت امیر کبیرؒ کی ابتدائی دعوتی جدوجہد اور آپؒ کے اثرات کی ایک خوب صورت جھلک پیش کرتا ہے۔
چھٹا باب ’’میر سید علی ہمدانیؒ کا دوسرا دورۂ کشمیر‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کے دوسرے دورۂ کشمیر،آپؒ کی دعوتی سرگرمیوں اور جماعتی جدوجہد کا ذکر کیا ہے۔مختلف واقعات کے ذریعے آپؒ کی دعوتی حکمتِ عملی،اہلِ کشمیر سے رابطے اور غیر مسلم طبقات تک دعوت پہنچانے کی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔یوں یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتی بصیرت اور کشمیر میں دین کی سربلندی کے لیے آپؒ کی مسلسل جدوجہد کی ایک مؤثر جھلک پیش کرتا ہے۔
ساتواں باب”کشمیر کے مختلف علاقوں میں دعوت و تبلیغ کا کام“ کے عنوان سے ہے۔یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی وسیع پیمانے پر دعوتی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہے۔مصنف نے مختلف علاقوں میں آپؒ کی تبلیغی کاوشوں،دعوتِ حق کی جدوجہد اور دینِ رحمت کے پیغام کو اجاگر کیا ہے۔پانپور،لتہ پورہ،بیج بہاڑہ،شوپیاں،لارکنگن،بارہمولہ،علاقہ شاہورہ،ترال،اونتی پورہ،سوپور،کریری،سونا واری اور بانڈی پورہ سمیت متعدد علاقوں میں آپؒ کی دعوتی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں اس پورے دعوتی سفر کا حاصلِ کلام بھی پیش کیا گیا ہے۔یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتی وسعت،عزم اور ہمہ گیر جدوجہد کی ایک مؤثر تصویر پیش کرتا ہے
آٹھواں باب”دیگر دعوتی،تبلیغی اور اصلاحی کام“ کے عنوان سے ہے۔مصنف نے اس باب میں آپؒ کی دعوتی مراکز اور دینی تعلیمی اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ مختلف طبقات تک دعوتِ اسلام پہنچانے کی کاوشوں کو نمایاں کیا ہے۔بعض اہم واقعات کے ذریعے یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ آپؒ کی دعوت سے غیر مسلم افراد اور اقوام نے اسلام قبول کیا،جبکہ امراء و وزراء کی تعلیم و تربیت کا بھی خاص اہتمام کیا گیا۔یوں یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتی حکمت، تنظیمی بصیرت اور اصلاحی جدوجہد کی ایک دل نشیں تصویر پیش کرتا ہے۔
نویں باب’’کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتی کامیابی کے ایک اہم راز کو نمایاں کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ آپؒ نے دین اور دنیا میں کوئی تصادم نہیں سمجھا،بلکہ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے پیش کیا۔کشمیر سے واپسی کے واقعے اور مؤرخ حسن کھو یہامی کی تحریر کے حوالے سے مصنف نے آپؒ کی جدوجہد کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جنہوں نے آپؒ کی دعوت کو عوام کے دلوں تک پہنچایا۔
دسویں باب’’لداخ اور بلتستان میں امیرؒ کی تبلیغی کوششیں‘‘ کے عنوان سے ہے۔مصنف نے پہلے اسلام سے قبل لداخ و بلتستان کے حالات کا مختصر جائزہ لیا ہے،پھر حضرت امیر کبیرؒ کی دعوتِ دین اور تبلیغی کاوشوں کو اجاگر کیا ہے۔یوں یہ باب آپؒ کی ہمہ گیر دعوتی جدوجہد اور دور دراز علاقوں تک پیغامِ اسلام کی رسائی کو نمایاں کرتا ہے۔
گیارہویں باب”امیر کبیرؒ کا تیسرا اور آخری دورہ کشمیر“کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف نے امیر کبیرؒ کی تبلیغی سرگرمیوں،سنتِ نبویﷺ کی دعوت اور توحید کی دعوت کو نمایاں کیا ہے۔کشمیر میں ان کی عظیم دعوتی خدمات اور اس کے نتیجے میں آنے والے عظیم انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر سے واپسی اور رخصت کے مراحل بھی بیان کیے ہیں۔آخر میں امیر کشمیرؒ کی آخری وصیت اور آخری وقت کا ایمان افروز تذکرہ ہے۔یہ باب ان کی دعوتی جدوجہد اور زندگی کے آخری لمحات کو نہایت مؤثر انداز میں سامنے لاتا ہے۔
بارہویں باب”امراء و سلاطین کے نام مکتوبات“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے امراء و سلاطین کے نام مکتوبات اور ان کے ذریعے دعوتِ دین کا نہایت اہم پہلو اجاگر کیا ہے۔سلطان قطب الدین،سلطان غیاث الدین،سلطان بہرام شاہ،سلطان خضر محمد شاہ اور سلطان طغاں شاہ کے نام خطوط کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ دعوتِ حق کے لیے اقتدار کے ایوان بھی اہلِ دعوت کی نگاہ سے اوجھل نہ تھے۔یہ باب امیر کبیرؒ کی حکمتِ دعوت،جرأتِ اظہار اور حکمرانوں تک پیغامِ دین پہنچانے کی قابلِ قدر کوششوں کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے۔
تیرہویں باب”امیر کبیرؒ کے اوصافِ حمیدہ اور مسلک و مشروب“کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کی شخصیت کے محض ظاہری اوصاف نہیں،بلکہ ان کے باطنی کمالات،روحانی وابستگی اور عملی کردار کو بھی نہایت خوب صورتی سے اجاگر کیا ہے۔اخلاص،تعلق باللّٰہ،صبر و استقامت،فقر و زہد،سخاوت،حلال رزق،محنت و مشقت اور حق گوئی جیسے اوصاف کے ذریعے حضرت امیر کبیرؒ کی ایک ایسی جامع اور مؤثر تصویر سامنے آتی ہے جو قاری کے دل میں احترام و عقیدت پیدا کرتی ہے۔بالخصوص رسولِ رحمتﷺ سے ان کا والہانہ تعلق اور ان کے مسلک و مشرب کی وضاحت اس باب کو مزید معنویت عطا کرتی ہے۔یوں یہ باب حضرت امیر کبیرؒ کی سیرت کے ان روشن پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے جو آج کے انسان کے لیے بھی اخلاص،کردار اور استقامت کا قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔
چودھویں باب”میر سید علی ہمدانیؒ کا تحریری کام“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے امیر کبیرؒ کی علمی و قلمی خدمات کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔اس باب میں حضرت امیر کبیرؒ کی تصنیفی عظمت عربی و فارسی میں علمی سرمایہ اور مختلف کتب و رسائل کا تعارف کراتے ہوئے ان کی ہمہ جہت علمی شخصیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔یوں قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ امیر کبیرؒ کی خدمات صرف دعوت و اصلاح اور تبلیغ تک محدود نہ تھیں،بلکہ ان کا قلم بھی علم و معرفت کی ایک روشن شمع تھا،جس کی روشنی آج بھی اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
پندرہویں باب”حضرت امیر کبیرؒ کے افکار و تعلیمات“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے حضرت امیر کبیرؒ کے افکار،تعلیمات اور اصلاحی پیغام کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔توحید کے تقاضوں سے لے کر مثالی ایمان،اتباعِ کتاب و سنت،صحابۂ کرامؓ و اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت،علم کی قدر و منزلت اور قرآن و نماز سے تعلق تک،زندگی کے بنیادی دینی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ذکرِ الٰہی،دعوت و تبلیغ،اہلِ خانہ کی تربیت،داعی کے اوصاف اور راہِ حق کی آزمائشوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔باب کا ایک اہم حصہ حقیقی تصوف اور سلوک کی درست تعبیر پر مشتمل ہے،جس میں سچے شیخ و مرشد،مخلص طالب و مرید اور بے عمل روحانی قیادت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔حسنِ اخلاق،جہاد بالنفس،ابراہیمی صفت مصلحین،گمراہ علماء اور صالح معاشرے کی تشکیل جیسے موضوعات اس باب کو مزید فکر انگیز بناتے ہیں۔آخر میں مثالی حکومت،اچھے اور برے حکمرانوں کے اوصاف اور حضرت امیر کبیرؒ کے انمول اقوال اس پورے فکری نظام کو نہایت مؤثر انداز میں سمیٹ دیتے ہیں۔یوں یہ باب محض تعلیمات کا مجموعہ نہیں،بلکہ فرد کی اصلاح سے معاشرے کی تعمیر اور حکمرانوں کی ذمہ داری تک ایک مکمل اصلاحی نقشہ پیش کرتا ہے،جس سے حضرت امیر کبیرؒ کی گہری دینی بصیرت،وسعتِ فکر اور امت کی اصلاح کے لیے ان کی غیر معمولی فکر نمایاں ہوتی ہے۔
سولہویں باب”کاروانِ حق کے وابستگان“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے کاروانِ حق کے وابستگان اور تحریک حق کے ارکان کا مختصر مگر مؤثر تعارف پیش کیا ہے۔ان شخصیات کی دینی خدمات،اخلاص اور جدوجہد کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے دعوتِ حق کے فروغ اور اصلاح معاشرہ میں اپنا کردار ادا کیا۔یہ باب تحریک سے وابستہ مخلص افراد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔
سترھویں باب”میر سید علی ہمدانیؒ کے فرزندِ ارجمند“کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے میر سید علی ہمدانیؒ کے فرزندِ ارجمند میر محمد ہمدانیؒ کی حیات و خدمات کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔کشمیر میں ان کی آمد،تبلیغی سرگرمیوں،مبلغین کی تقرری،اربابِ حکومت سے تعلق،اسلامی مراکز اور خانقاہِ معلیٰ کی تعمیر،ریشیت کی اصلاح اور دینی و دعوتی جدوجہد کو نمایاں کیا گیا ہے۔آخر میں کشمیر سے مراجعت،وفات اور تصنیف و تالیف کے ذریعے ان کے علمی ورثے کا بھی تذکرہ ہے۔یوں یہ باب ایک ایسی شخصیت کی تصویر پیش کرتا ہے جس نے دعوت،اصلاح اور تعمیرِ مراکز کے ذریعے کشمیر کی دینی تاریخ پر گہرا نقش چھوڑا۔
اٹھارہویں باب”تحریکِ دعوت و تبلیغ کے وابستگان“ کے عنوان سے ہے۔اس باب میں مصنف نے تحریکِ دعوت و تبلیغ کے ان جاں نثار وابستگان کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے میر محمد ہمدانیؒ کے ساتھ مل کر کشمیر میں دین کی شمع روشن کی۔مختلف علاقوں سے آنے والے رفقائے کار،داعیانِ حق اور اہلِ علم کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی دعوتی و اصلاحی جدوجہد کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ساتھ ہی سلطان سکندرؒ اور کشمیر کے دیگر داعیانِ حق کا مختصر تعارف پیش کر کے اس کاروانِ حق کی اجتماعی کاوشوں کو نمایاں کیا گیا ہے،جس نے کشمیر کی دینی تاریخ کو ایک نئی سمت عطا کی۔
بحیثیتِ مجموعی فاضل مصنف کی کتاب ’’میر سید علی ہمدانیؒ:حیات و خدمات اور تعلیمات‘‘ایک نہایت عمدہ،فکرانگیز اور قابلِ قدر کاوش ہے۔یہ کتاب محض پڑھ کر ایک طرف رکھ دینے والی کتاب نہیں،بلکہ اپنے ماضی سے جڑنے،اپنے حال کا احتساب کرنے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کی ایک خاموش مگر مؤثر دعوت ہے۔اس کے صفحات ہمیں اپنے ان عظیم اسلاف سے ملواتے ہیں جنہوں نے دین کی سربلندی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں،آسائشوں کو تج دیا،مصائب کا سامنا کیا اور دعوتِ حق کے چراغ کو دور دور تک روشن کیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کو صرف تاریخ کے صفحات میں نہ تلاش کریں،بلکہ ان کے کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ہم بھی ان کی طرح اخلاص،عمل،استقامت،قربانی اور دعوت کا راستہ اختیار کریں۔کیونکہ اسلاف سے حقیقی نسبت صرف ان کے نام لینے سے نہیں،بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔یہ کتاب اسی نسبت کو زندہ کرنے والی ایک خوب صورت کاوش ہے۔اسے خریدیے،پڑھیے،دل کی گہرائیوں سے پڑھیے،اور پھر اپنے آپ سے یہ سوال کیجیے کہ ہم نے اپنے اسلاف سے کیا پایا اور ان کی میراث میں ہم نے اپنی طرف سے کیا اضافہ کیا؟ شاید یہی سوال ہماری زندگی کے رخ کو بدلنے کا نقطۂ آغاز بن جائے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کی سیرت و کردار سے روشنی لینے،ان کی دینی میراث کو آگے بڑھانے،ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ایمان و عمل کی اسی راہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
______________________________________
کتاب کا نام:میر سید علی ہمدانی:حیات،خدمات اور تعلیمات
مصنف:خاکی محمد فاروق
صفحات:370
قیمت:450
ناشر:مکتبہ اسلامیہ نوگام سرینگر
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:7006531215
Comments
Post a Comment