استقامت درحقیقت ایمان کی پختگی،عزمِ صمیم اور اللّٰہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا مظہر ہے۔یہ صرف مصائب میں ثابت قدم رہنے کا وصف نہیں،بلکہ خوش حالی،کامیابی اور آسائش کے زمانے میں بھی اپنے رب سے وفاداری،اعتدال اور انکساری کو برقرار رکھنے کا نام ہے۔اہلِ استقامت کے قدم حالات کے ساتھ نہیں بدلتے،حالات موافق ہوں یا مخالف،ان کا رخ ہمیشہ اللّٰہ کی رضا کی طرف رہتا ہے۔وہ آزمائش میں بھی اپنے رب کو یاد رکھتے ہیں اور کامیابی ملنے پر بھی اپنے مقصدِ حیات کو فراموش نہیں کرتے۔
لیکن استقامت کا یہ سفر آسان نہیں۔اس کی راہ پھولوں کی نرم سیج نہیں،بلکہ صبر و یقین،عزم و حوصلے اور وفا و قربانی سے عبارت ایک دشوار گزار سفر ہے۔اس راہ میں کبھی مخالفتوں کے طوفان اٹھتے ہیں،کبھی حالات حوصلہ آزما بن جاتے ہیں،کبھی نفس و خواہشات انسان کو مقصد سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں اور کبھی دنیا کی عارضی آسائشیں آخرت کی دائمی کامیابی کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتی ہیں۔یہی وہ مواقع ہیں جب انسان کے ایمان،ارادے اور مقصدِ حیات کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
یہ آزمائشیں محض انسان کو تھکانے کے لیے نہیں ہوتیں،بلکہ ان کے ذریعے اس کے عزم و ایمان کی حقیقت نمایاں ہوتی ہے۔انہی مراحل میں معلوم ہوتا ہے کہ کس نے اللّٰہ کی رضا کو زندگی کا حقیقی مقصود بنایا ہے اور کون دنیا کی وقتی راحتوں کے سامنے اپنے عہد سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔جس کے دل میں آخرت کی طلب دنیا کی خواہشات پر غالب ہو جائے،وہ مشکلات سے گھبرا کر راستہ نہیں بدلتا،بلکہ آزمائش کو اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے کردار کی تعمیر کا ذریعہ بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ استقامت محض ایک انفرادی خوبی نہیں،بلکہ کسی بلند مقصد کے حصول کی بنیادی ضرورت ہے۔مقصد جتنا عظیم ہو،اس کے لیے مسلسل جدوجہد،صبر اور ثابت قدمی بھی اتنی ہی ناگزیر ہوتی ہے۔مقصد کی راہ میں چند قدم چل کر رک جانا یا مشکلات کے سامنے راستہ بدل لینا کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔حق کی راہ تو بالخصوص ایسی راہ ہے جس میں قدم قدم پر انسان کو اپنے ایمان،ارادے اور وفاداری کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
استقامت کی اسی اہمیت کی طرف مولانا عتیق احمد شفیق اصلاحی نے توجہ دلائی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
”استقامت و استقلال کے بغیر دنیا کا کوئی بھی کام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔مقصد کی حصول یابی کے لیے مسلسل جدوجہد اور پیہم کوشش کا نام ہی استقامت ہے۔استقامت مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔جن لوگوں کے اندر استقامت نہیں پائی جاتی وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔اسی لیے اسلام میں بھی استقامت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔کیونکہ اسلام چند رسوم و رواج کے مجموعہ کا نام نہیں،بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جو ساری دنیا میں غلبہ کے لیے برپا کی گئی ہے۔کسی بھی تحریک کو برپا کرنے کے لیے باحوصلہ،جرات مند اور استقلال و استقامت سے متصف افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔استقامت ایک ایسی چیز ہے جس سے مومن کو زندگی کے ہر مرحلہ میں سابقہ پیش آتا ہے۔اس کی ضرورت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب مختلف میلانات و محرکات کے درمیان کشاکش ہوتی ہے۔اگر فرد یا جماعت کے اندر استقامت ہو تو دعوت الی اللّٰہ کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا اور مصائب و آلام کو جھیل لینا آسان ہوتا ہے۔یہ استقامت نفوس کی کجی اور قلوب کی گمرہی کو دور کرتی ہے،معاصی سے اجتناب اور اطاعت الٰہی کے لیے تیار رہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے،جب دشمنانِ اسلام حق کو مٹانے کے درپے ہو جائیں تو حامیانِ حق کو اپنی قلت تعداد کے باوجود استقامت دکھانی پڑتی ہے۔
دعوتِ حق کی پوری تاریخ ابتلاء و آزمائش سے پُر ہے،جس نے بھی اس میدان میں قدم رکھا ہے،اسے شدید کشمکش اور سخت ترین حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ابتلاء و آزمائش مومن کی زندگی کا ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کا جتنا محبوب ہوگا وہ اتنے ہی سخت ترین حالات سے دوچار ہوگا۔“(استقامت،ص 7)
قرآنِ مجید نے بھی استقامت کی اسی حقیقت کو ایمان کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا۔(فصلت:33)
’’بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللّٰہ ہے،پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے۔‘‘
آگے ایسے اہلِ استقامت کے لیے فرشتوں کی بشارت اور جنت کی خوش خبری بیان کی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا تقاضا محض زبان سے اقرار کرنا نہیں،بلکہ اس اقرار کو زندگی کے آخری مرحلے تک اپنے عمل اور کردار میں قائم رکھنا ہے۔ایک دوسرے مقام پر اللّٰہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبرﷺ کو حکم دیتا ہے:
فَاسۡتَقِمۡ كَمَاۤ اُمِرۡتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡا ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ۔(ھود:112)
”پس اے محمدؐ،تم،اور تمہارے وہ ساتھی جو(کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف)پلٹ آئے ہیں،ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔“
مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”۔۔۔اس دنیا میں سب سے زیادہ دشوار کام استقامت ہی ہے اسی لیے محققین صوفیاء نے فرمایا ہے کہ استقامت کا مقام کرامت سے بالاتر ہے،یعنی جو شخص دین کے کاموں میں استقامت اختیار کئے ہوئے ہے،اگرچہ عمر بھر اس سے کوئی کرامت صادر نہ ہو،وہ اعلیٰ درجہ کا ولی ہے۔حضرت عبد اللّٰہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ پورے قرآن میں رسول کریمﷺ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور شاق کوئی آیت نازل نہیں ہوئی،اور فرمایا کہ جب صحابہ کرامؓ نے ایک مرتبہ رسول اللّٰہﷺ کی لحیہ مبارک میں کچھ سفید بال دیکھ کر بطور حسرت و افسوس کے عرض کیا کہ اب تیزی سے بڑھاپا آپ کی طرف آرہا ہے تو فرمایا کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کر دیا،سورة ہود میں جو پچھلی قوموں پر سخت و شدید عذاب کے واقعات مذکور ہیں وہ بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں مگر ابن عباسؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ہی اس کا سبب ہے۔
تفسیر قرطبی میں ابو علی سری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے خواب میں رسول کریمﷺ کی زیارت کی تو عرض کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کر دیا؟ آپ نے فرمایا ہاں! انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اس سورت میں جو انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور ان کی قوموں کے عذاب کا ذکر ہے اس نے آپ کو بوڑھا کیا؟ تو فرمایا نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے اس ارشاد نے(آیت)فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ!
یہ ظاہر ہے کہ رسول کریمﷺ تو انسان کامل کی مثالی صورت بن کر اس دنیا میں تشریف لائے تھے اور فطری طور پر استقامت آپ کی عادت تھی مگر پھر اس قدر بار یا تو اس لئے محسوس فرمایا کہ آیت میں مطلق استقامت کا حکم نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ امر الہٰی کے مطابق استقامت ہونا چاہئے،انبیاء علیہم السلام پر جس قدر خوف و خشیت الہٰی کا غلبہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے،اس خشیت ہی کا یہ اثر تھا کہ باوجود کامل استقامت کے یہ فکر لگ گئی کہ اللّٰہ جل شانہ کو جیسی استقامت مطلوب ہے وہ پوری ہوئی یا نہیں۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی استقامت کی تو زیادہ فکر نہ تھی کیونکہ وہ بحمد اللّٰہ حاصل تھی مگر اس آیت میں پوری امت کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے،امت کا استقامت پر قائم رہنا دشوار دیکھ کر یہ فکر و غم طاری ہوا۔
حکم استقامت کے بعد فرمایا وَلَا تَطْغَوْا،یہ لفظ مصدر طغیان سے بنا ہے،اس کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں جو ضد ہے استقامت کی،آیت میں استقامت کا حکم مثبت انداز میں صادر فرمانے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ اس کے منفی پہلو کی ممانعت بھی صراحۃ ذکر کر دی کہ عقائد،عبادات،معاملات،اخلاق وغیرہ میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلو کہ یہ ہر فساد اور دینی و دنیوی خرابی کا راستہ ہے۔“
(معارف القرآن،جلد چہارم،ص 672)
یوں قرآنِ مجید نے استقامت کو ایمان کی تکمیل اور حکمِ الٰہی کی عملی پاس داری کے طور پر واضح کر دیا۔رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات میں بھی استقامت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔حضرت سفیان بن عبد اللّٰہ ثقفیؓ نے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں ایسی جامع بات بتا دیجیے جس کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔آپﷺ نے فرمایا:
قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔‘‘(مسلم:38)
’’کہو:میں اللّٰہ پر ایمان لایا،پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
گویا ایمان کے اقرار کے فوراً بعد استقامت کا حکم دے کر نبی کریمﷺ نے واضح فرما دیا کہ ایمان کی اصل آزمائش اس کے بعد شروع ہوتی ہے،انسان کو اپنے عقیدے،عبادت،کردار اور معاملات میں مسلسل اللّٰہ کی اطاعت پر قائم رہنا ہے۔
تاریخِ اسلام کے صفحات اس قرآنی و نبوی تعلیم کی عملی شہادتوں سے بھرے پڑے ہیں۔حضرت نوحؑ نے طویل عرصے تک اپنی قوم کو دعوتِ توحید دی،مگر مسلسل انکار اور مخالفت کے باوجود اپنے فرض سے پیچھے نہ ہٹے۔حضرت ابراہیمؑ نے توحید کی دعوت دی تو قوم کی مخالفت،وطن سے جدائی اور آگ میں ڈالے جانے کی آزمائش پیش آئی،لیکن ان کے قدم حق سے نہ ڈگمگائے۔حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی سرکشی اور اپنی قوم کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا،مگر اللّٰہ کے حکم پر ثابت قدم رہے۔اور رسول اللّٰہﷺ کی مکی زندگی تو استقامت کی ایک بے مثال داستان ہے،مخالفت،اذیت،معاشرتی بائیکاٹ،ہجرت اور طرح طرح کی آزمائشیں آئیں،لیکن دعوتِ حق کا سفر ایک لمحے کے لیے بھی متوقف نہ ہوا۔
صحابۂ کرامؓ نے بھی اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ ایمان کی حفاظت کے لیے استقامت کس قدر ضروری ہے۔حضرت بلالؓ نے ایمان قبول کیا تو انہیں شدید اذیتیں دی گئیں،مگر ان کی زبان سے توحید کا اقرار نہ چھینا جا سکا۔حضرت خبابؓ اور دیگر صحابہؓ نے بھی سخت ترین حالات برداشت کیے،مگر ایمان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ان نفوسِ قدسیہ نے اسلام کو محض ایک نظریہ سمجھ کر قبول نہیں کیا تھا،بلکہ اسے زندگی کا مقصد بنایا تھا،اسی لیے مقصد کی راہ میں مال،وطن،آرام بلکہ جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔یہی استقامت تھی جس نے ایک مختصر سی جماعت کو تاریخ ساز جماعت بنا دیا۔
آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے دور کا ایک بڑا مسئلہ علم یا جذبات کی کمی نہیں،بلکہ عمل میں پائیداری اور کردار میں استقامت کا فقدان ہے۔ہم کسی دینی بات سے متاثر ہوتے ہیں،کچھ دیر کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے،نیکی کا ارادہ کرتے ہیں،مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ ولولہ سرد پڑ جاتا ہے۔عبادت میں پابندی،علم کے حصول میں تسلسل،دعوت و اصلاح میں مستقل مزاجی،گناہوں سے بچنے کی جدوجہد اور حق بات پر قائم رہنے کے معاملے میں ہماری کمزوری نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ہم جلد متاثر ہوتے ہیں اور جلد ہی اپنے عزم سے دست بردار بھی ہو جاتے ہیں۔
دورِ حاضر کی سہولت پسند زندگی نے اس کمزوری کو مزید بڑھا دیا ہے۔فوری نتائج کی خواہش،مسلسل بدلتی ترجیحات،خواہشات کی فراوانی اور دنیا کی چمک دمک نے انسان کو دیرپا مقاصد کے بجائے وقتی لذتوں کا عادی بنا دیا ہے۔ایسے ماحول میں اپنے ایمان،کردار اور مقصدِ حیات پر قائم رہنا بلاشبہ ایک بڑا چیلنج ہے،لیکن یہی حالات ہمیں استقامت کی پہلے سے زیادہ ضرورت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔آج ضرورت ایسے ایمان کی ہے جو صرف جذباتی کیفیت نہ ہو،ایسے عزم کی ہے جو وقتی جوش تک محدود نہ رہے اور ایسے عمل کی ہے جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔
آج استقامت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کو شعوری زندگی کی بنیاد بنائے،قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے،سیرتِ رسولﷺ کو اپنے لیے عملی نمونہ بنائے اور مقصدِ حیات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے۔نیکی کے کاموں میں تسلسل اختیار کرے،گناہوں سے بچنے کی جدوجہد جاری رکھے اور اگر کبھی لغزش ہو جائے تو مایوسی کے بجائے توبہ و اصلاح کے ساتھ دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرے۔استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی کمزور نہ پڑے،اصل استقامت تو یہ ہے کہ کمزوری اسے شکست نہ بننے دے اور لغزش اسے منزل سے بھٹکنے نہ دے۔
ہمیں ایسی استقامت درکار ہے جو عبادت گاہ کی حدود سے نکل کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنا اثر دکھائے،جو تنہائی و مجمع،خوش حالی و تنگ دستی،موافقت و مخالفت—ہر حال میں انسان کو اللّٰہ تعالیٰ سے وابستہ رکھے۔وہ حالات کے رخ پر بہنے کے بجائے حق کی سمت قدم جما کر چلے،مشکلات کے سامنے اپنے مقصد سے دست بردار نہ ہو اور کامیابی کی گھڑی میں بھی اپنے رب کو فراموش نہ کرے۔اس لیے کہ افراد ہوں یا قومیں،بلند مقاصد محض خواہش،جذبات اور نعروں سے حاصل نہیں ہوتے،ان کے لیے مسلسل جدوجہد،صبر،قربانی اور راہِ حق پر ثابت قدمی ناگزیر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم استقامت کو محض ایک دینی اصطلاح کے طور پر نہ پڑھیں،بلکہ اسے اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔حالات خواہ کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں،حق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے،آزمائشیں خواہ کتنی ہی سخت ہوں،قدم ڈگمگانے نہ پائیں اور دنیا کی کشش خواہ کتنی ہی بڑھ جائے،مقصدِ حیات نگاہوں سے اوجھل نہ ہو۔اگر فرد اپنے ایمان،کردار اور عمل میں ثابت قدمی پیدا کر لے تو یہی استقامت اس کی زندگی کو سنوارنے اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔بلاشبہ راہِ حق میں سفر کرنے والوں کے لیے منزل کی ضمانت آسان راستے میں نہیں،بلکہ ثابت قدم قدموں میں پوشیدہ ہے۔
Comments
Post a Comment