سیرتِ طیبہ وہ روشن آئینہ ہے جس میں ایک مسلمان اپنے ایمان کی حقیقت،اپنے کردار کی اصلاح اور اپنی زندگی کے لیے اسوۂ کامل کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں،بلکہ ایمان کی روح،محبتِ رسولﷺ کا فطری تقاضا اور آپﷺ کی زندگی کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنانے کی بنیادی ضرورت ہے۔سیرتِ طیبہ سے گہری وابستگی دل میں محبتِ رسولﷺ کی حرارت کو جِلا بخشتی،ایمان کو تازگی عطا کرتی اور زندگی کے ہر موڑ پر اسوۂ حسنہ کی روشنی میں صراطِ مستقیم کی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔یہی نسبتِ سیرت انسان کو محض واقفِ احوال نہیں بناتی،بلکہ اسے اپنے کردار و عمل کا محاسبہ کرنے،زندگی کو نبوی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے اور رضائے الٰہی کی جستجو میں آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔قرآنِ مجید نے رسولِ اکرمﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو اہلِ ایمان کے لیے ایسا کامل نمونہ قرار دیا ہے جس میں زندگی کے ہر گوشے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا۔(الأحزاب:21)
’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللّٰہ کے رسولﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا،ہر اُس شخص کے لیے جو اللّٰہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللّٰہ کو یاد کرے۔‘‘
یہ آیت دراصل سیرتِ نبویﷺ کی پوری معنویت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔آپﷺ کی حیاتِ طیبہ محض تاریخ کا ایک روشن باب نہیں،بلکہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے زندگی گزارنے کا ایک زندہ اور کامل دستور ہے۔اخلاق و کردار ہو یا عبادات و معاملات،معاشرت ہو یا سیاست،عدل و انصاف ہو یا عفو و درگزر،دعوت و اصلاح ہو یا قیادت و تدبیر—زندگی کا کون سا ایسا گوشہ ہے جس کے لیے اسوۂ رسولﷺ سے رہنمائی نہ ملتی ہو؟ اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ پر نبوت کا سلسلہ مکمل فرما کر صرف دین کی تکمیل ہی نہیں فرمائی،بلکہ انسانیت کے لیے اس کامل ترین نمونۂ حیات کو بھی محفوظ فرما دیا جس کی نظیر قیامت تک پیش نہیں کی جا سکتی۔
تاہم سیرتِ رسولﷺ کا حق صرف یہ نہیں کہ اسے محافل میں بیان کیا جائے،کتابوں میں پڑھا جائے یا محبت و عقیدت کے جذبات کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا جائے۔سیرت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے،زندگی میں اتارا جائے اور اس کی روشنی میں اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کی اصلاح کی جائے۔اگر سیرت ہمارے کردار کو نہ بدلے،ہمارے رویوں کو نہ سنوارے اور ہمارے معاشرے کی تشکیل میں کوئی عملی کردار ادا نہ کرے تو ہمارا مطالعہ محض معلومات کے اضافے تک محدود رہ جاتا ہے۔آج مسلم معاشرہ جن فکری،اخلاقی،معاشرتی اور عملی مسائل سے دوچار ہے،ان میں سے بہت سے مسائل کا حل سیرتِ نبویﷺ کی روشنی میں تلاش کیا جا سکتا ہے،ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم سیرت کو محض عقیدت کی نگاہ سے نہیں،بلکہ شعور،بصیرت اور عمل کی نظر سے بھی پڑھیں۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر مختلف زبانوں میں بے شمار کتب لکھی گئی ہیں۔ہر عہد کے اہلِ علم نے اپنے اپنے علمی ذوق،فکری زاویے اور عصر کے تقاضوں کے مطابق اس بحرِ بے کراں سے موتیاں چنے ہیں۔سیرت پر لکھی جانے والی ہر سنجیدہ اور مخلصانہ کاوش درحقیقت صاحبِ سیرتﷺ سے محبت کا ایک خوب صورت اظہار بھی ہے اور امت کے لیے خیر خواہی کی ایک علمی کوشش بھی۔
اسی سلسلۂ سیرت نگاری کی ایک قابلِ قدر کاوش’’اسوۂ حسنہ ﷺ‘‘ ہے،جسے معروف عالمِ دین اور محقق ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب نے نہایت علمی بصیرت اور تحقیقی ذوق کے ساتھ تصنیف کیا ہے۔ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ان کا بنیادی علمی و تحقیقی میدان فقہِ اسلامی،اصولِ فقہ اور اجتہاد کے مناہج و اسالیب ہیں۔حق گوئی و بے باکی،وسعتِ نظر اور ندرتِ فکر ان کی علمی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں،اور سیرتِ نبویﷺ کے حوالے سے ان کی یہ کاوش بھی ان کے اسی علمی مزاج کی آئینہ دار محسوس ہوتی ہے۔
’’اسوۂ حسنہ ﷺ‘‘ محض واقعاتِ سیرت کی ترتیب یا حیاتِ نبویﷺ کے مختلف ادوار کا روایتی بیان نہیں،بلکہ مصنف نے سیرتِ طیبہ کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جن میں عصرِ حاضر کے انسان اور خصوصاً مسلمان کے لیے فکری و عملی رہنمائی کے بیش بہا امکانات موجود ہیں۔یہی اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے کہ یہاں سیرت کو صرف ماضی کے واقعات کے طور پر نہیں دیکھا گیا،بلکہ اس کے اندر پوشیدہ ہدایت،بصیرت اور زندگی سازی کے پیغام کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کو نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر باب میں ایک اہم موضوع کو تفصیل،استدلال اور علمی سنجیدگی کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔مصنف کی کوشش یہ ہے کہ قاری صرف واقعے سے واقف ہو کر آگے نہ بڑھے،بلکہ اس واقعے کے پس منظر،اس کے معنوی پہلو اور اس سے حاصل ہونے والی رہنمائی پر بھی غور کرے۔یہی طرزِ مطالعہ سیرت کو محض تاریخ کے اوراق سے نکال کر زندگی کے عملی میدان میں لے آتا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے حوالے سے ملت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد افضل لون صاحب بھی خصوصی تحسین کے مستحق ہیں،جنہوں نے اسے عمدہ طباعت،معیاری کاغذ اور دیدہ زیب پیش کش کے ساتھ قارئین تک پہنچایا ہے۔افضل صاحب کی شخصیت میں سلیم الفطرتی،شرافتِ نفس اور وسعتِ قلبی نمایاں ہے۔ان کی مطبوعات کے بارے میں یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ وہ معیار کے معاملے میں سمجھوتے کے قائل نہیں،نہ کتاب کے علمی و فکری مواد پر،نہ اس کی طباعت اور ظاہری حسن پر۔یہی وجہ ہے کہ ان کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتب علمی افادیت کے ساتھ ساتھ ظاہری حسن و وقار میں بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں۔
یوں’’اسوۂ حسنہﷺ‘‘بیک وقت محبتِ رسولﷺ،علمی مطالعۂ سیرت اور عملی رہنمائی—تینوں پہلوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹنے والی ایک قابلِ توجہ کاوش بن کر سامنے آتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مصنف نے ان نو ابواب میں سیرتِ طیبہ کے کن گوشوں کو موضوعِ بحث بنایا ہے،ان سے کون سے فکری و عملی نتائج اخذ کیے ہیں اور عصرِ حاضر کے مسلمان کے لیے اس کتاب میں کس نوعیت کا پیغام پوشیدہ ہے۔
پہلا باب بعنوان ’’اسوۂ حسنہ‘‘ نہایت اہم اور فکرانگیز مباحث پر مشتمل ہے،جس میں فاضلِ مصنف نے رسولِ اکرمﷺ کی تعلیمی،دعوتی،دستوری اور تنظیمی جدوجہد و کارکردگی پر نہایت جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے۔باب کے آغاز ہی میں اس بنیادی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ سے ہمارا تعلق محض عقیدت و محبت یا تاریخی وابستگی کا نہیں،بلکہ ایمان کا تعلق ہے،لکھتے ہیں:
”ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ رسول علیہ الصلوٰۃ و السلام کی انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ نہ صرف مکمل اطاعت کی جائے بلکہ آپؐ کے اسوۂ حسنہ،آپؐ کی سنت اور آپؐ کے نظائر کو بھی اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔رسالت مآبﷺ کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کے قائم کردہ نظام زندگی،آپ کی دعوت اور آپ کی دی ہوئی ہدایات کو ہر دور اور ہر زمانے میں زندہ و تابندہ رکھیں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ کا دین تا قیامت پوری شوکت و عظمت کے ساتھ دنیا بھر کی اقوام اور ساری انسانیت کے لیے روشنی کا مینار بنا رہے۔“(ص ٢٢)
دوسرے باب بعنوان”امت واحدہ کی تشکیل“میں فاضلِ مصنف نے امتِ مسلمہ کی وحدت کو دین کے ایک بنیادی اور نہایت اہم اصول کے طور پر نمایاں کیا ہے،اور اس کی اہمیت و ضرورت کو سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں نہایت جامع انداز سے واضح کیا ہے۔امتِ مسلمہ کی وحدت محض ایک اجتماعی ضرورت نہیں،بلکہ اسلامی تعلیمات کا وہ بنیادی تقاضا ہے جس کی پاسداری اور حفاظت کو رسولِ اکرمﷺ نے ہمیشہ خصوصی اہمیت دی۔آپﷺ نے اپنے قول و عمل اور طرزِ حکمرانی کے ذریعے امت کو اتحاد،اخوت اور باہمی وابستگی کا درس دیا اور ہر اس رویے سے روکا جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و انتشار کا سبب بن سکتا تھا۔آنحضرتﷺ کے اس طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے مصنف رقم طراز ہیں:
”امت کی وحدت کا رسول اللّٰہﷺ نے تعلیم کو کس قدر خیال تھا اس کا اندازہ آپ کی اس شدید خواہش سے کیا جا سکتا ہے جس کا اظہار آپ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا تھا کہ اے عائشہؓ اگر تمھاری قوم کا زمانہ عہد جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں حطیم کو بیت اللّٰہ کی تعمیر میں شامل کر لیتا۔لیکن رسول اللّٰہﷺ نے ایسا نہیں کیا،کیونکہ آپؐ کو یہ اندیشہ تھا کہیں اس عمل کی وجہ سے امت مسلمہ کسی ایسے اختلاف کا شکار نہ ہو جائے جو اس کی وحدت کو پامال کر دے۔اس واقعہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے امت مسلمہ کی وحدت اور یکجہتی کی خاطر ایک اہم کام کو ترک کر دیا۔“(ص ٤٢)
تیسرا باب ’’منصوبہ بندی‘‘ کے عنوان سے ہے،جس میں فاضلِ مصنف نے اس حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ میں بصیرت،تدبر اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ امور کو انجام دینے کا اصول پوری وضاحت کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔سیرتِ طیبہ کے مختلف واقعات سے اس اصول کی متعدد روشن اور سبق آموز مثالیں پیش کی گئی ہیں،جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کامیاب جدوجہد محض جذبۂ عمل کا نام نہیں،بلکہ صحیح مقصد کے تعین،حالات کے درست ادراک،وسائل کی مناسب ترتیب اور دور رس حکمتِ عملی کا تقاضا بھی کرتی ہے۔مصنف نے نہ صرف عہدِ نبویﷺ میں اختیار کی گئی حکیمانہ منصوبہ بندی کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو منصوبہ بندی کے میدان میں کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے اور اپنی اجتماعی زندگی کو کس طرح منظم و مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟ اسی اہم اور عصری ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے مصنف رقم طراز ہیں:
”امت مسلمہ کو اپنے تمام معاملات،خواہ ان کا تعلق انفرادی امور سے ہو یا اجتماعی و ملی امور سے،طے کرنے کے لیے منصوبہ بندی سے کام لینا چاہیے۔میسر ذرائع اور وسائل کا پوری ذہانت کے ساتھ بہتر اور بروقت استعمال کامیاب منصوبہ بندی کے لیے بہت ضروری ہے،یہی اسوۂ حسنہ کا اصول ہے۔اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے سے ہی مومنانہ فراست پیدا ہوتی ہے،یہی فراست اعلیٰ منصوبہ بندی کے لیے مطلوب ہے۔“(ص ٨٥)
چوتھا باب بعنوان ’’مقاصد کا تعین‘‘ میں فاضلِ مصنف اس بنیادی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ سیرتِ طیبہﷺ کا ایک روشن اور واضح پیغام یہ ہے کہ ہر عمل سے پہلے مقصد کا تعین ضروری ہے۔مقصد کی وضاحت ہی عمل کو سمت،ترجیح اور معنویت عطا کرتی ہے،بصورتِ دیگر انسان کی جدوجہد بسا اوقات محض سرگرمی بن کر رہ جاتی ہے۔مصنف کا کہنا ہے کہ سیرتِ رسولِ اکرمﷺ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ کسی بھی کارِ خیر میں قدم رکھنے سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ ہماری منزل کیا ہے،مقصد کیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہماری جدوجہد کی سمت کون سی ہونی چاہیے۔
پانچواں باب بعنوان ’’مشاورت‘‘میں فاضلِ مصنف نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک نہایت اہم اصول شوریٰ کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔انہوں نے سیرتِ طیبہ کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ بالخصوص امت کے اجتماعی معاملات اور اہم فیصلوں میں مشاورت کو کس قدر بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت حاصل رہی ہے۔رسولِ اکرمﷺ کے طرزِ عمل سے شوریٰ کی اہمیت،اس کی روح اور اس کے عملی تقاضوں کو نمایاں کرتے ہوئے مصنف نے اس کے طریقۂ کار،ضروری شرائط اور شورائی فیصلوں کی دستوری حیثیت پر بھی تفصیل سے گفتگو کی ہے،تاکہ یہ حقیقت سامنے آئے کہ اسلامی نظام میں مشاورت محض ایک انتظامی طریقہ نہیں،بلکہ اجتماعی زندگی کی درست سمت متعین کرنے والا ایک اصولی اور مؤثر نظام ہے۔
چھٹا باب بعنوان’’اصولِ تیسیر اور اسوۂ حسنہ‘‘میں فاضلِ مصنف نے شریعتِ اسلامی کے ایک نہایت اہم اور انسان دوست اصول’’تیسیر‘‘کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔اس باب میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اصولِ تیسیر دراصل شریعت کے ان مقاصد کی رہنمائی کرتا ہے جن میں بندوں کی آسانی،مفادِ عامہ،لوگوں کی مصلحت اور ان کی ضروریات کا لحاظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اسوۂ حسنہ کی روشنی میں یہ حقیقت بھی اجاگر کی گئی ہے کہ اسلام انسانوں کے لیے زندگی کو دشوار بنانے کے بجائے ان کی مشکلات کو کم کرنے،ان کے لیے سہولت پیدا کرنے اور اجتماعی مصالح کی نگہداشت کا درس دیتا ہے۔یوں اصولِ تیسیر شریعت کے اس حسین مزاج کی ترجمانی کرتا ہے جس میں رحمت،مصلحت اور آسانی باہم ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
ساتواں باب بعنوان ’’اصولِ احتساب‘‘ میں فاضلِ مصنف نے احتساب کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔مصنف کے نزدیک رسولِ اکرمﷺ کی تعلیمات میں خود احتسابی،تزکیۂ نفس اور اصلاحِ کردار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ ایک صالح فرد اور ایک مہذب معاشرے کی تعمیر کا آغاز اسی احساسِ جواب دہی سے ہوتا ہے۔انسانی معاشرے کی تہذیب،تطہیر اور حقیقی ترقی کے لیے احتساب محض ایک انتظامی ضرورت نہیں،بلکہ ایک ناگزیر اخلاقی فریضہ ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے اعمال پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی ذات،اپنے اعمال،اپنے کردار اور اپنے افکار کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے۔سیرتِ طیبہ اس حوالے سے ایک جامع اور روشن رہنمائی فراہم کرتی ہے،جہاں انفرادی محاسبۂ نفس سے لے کر اجتماعی احتساب تک زندگی کے ہر دائرے میں جواب دہی،اصلاح اور ذمہ داری کا شعور نمایاں نظر آتا ہے۔یوں اصولِ احتساب انسان کو اپنے باطن کی اصلاح سے معاشرے کی تعمیر تک ایک ایسا راستہ دکھاتا ہے،جو فرد کو ذمہ دار اور معاشرے کو صالح و پاکیزہ بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
آٹھواں باب بعنوان’’تفقہ،فقہ اور اجتہاد‘‘میں فاضلِ مصنف نے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں فقہ و اجتہاد کے بنیادی اصولوں پر نہایت اہم اور فکر انگیز گفتگو کی ہے۔سب سے پہلے فقہ کے حقیقی اور صحیح مفہوم کو واضح کرنے کی سعی کی گئی ہے،تاکہ اس اصطلاح کو محض جزوی اور ظاہری احکام تک محدود سمجھنے کے بجائے اس کے وسیع تر مفہوم اور روح کو سمجھا جا سکے۔اس کے بعد فقہ کے اصولی دائرے میں اجتہاد کی وسعت،جامعیت اور ہمہ گیری کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور نئے پیش آمدہ مسائل میں شریعت کی رہنمائی کو بروئے کار لانے کے لیے اجتہاد کس قدر اہم اور ناگزیر ذریعہ ہے۔یوں یہ باب فقہ کے فکری مزاج اور اجتہاد کی حرکی قوت کو اسوۂ حسنہ کے آئینے میں پیش کرتے ہوئے قاری کو اسلامی قانون کی وسعتِ نظر،لچک اور عصری معنویت سے روشناس کراتا ہے۔
نویں باب بعنوان’’منہجِ عدل و قضا‘‘میں فاضل مصنف نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک نہایت بنیادی ستون،یعنی عدل اور قیامِ عدل کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔مصنف کے نزدیک انسانی معاشرے کی حقیقی اصلاح،امن و استحکام اور فلاح کا انحصار عدل کے قیام پر ہے،اور شریعتِ اسلامی نے اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف جہتوں اور متنوع طریقوں سے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔اس باب میں قیامِ عدل سے متعلق ان تمام بنیادی پہلوؤں کو نہایت جامع انداز میں واضح کیا گیا ہے جو ایک عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔یوں یہ باب سیرتِ طیبہ کی روشنی میں عدل کے اصول،اس کے تقاضوں اور نظامِ قضا کے عملی منہج کو اجاگر کرتے ہوئے یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ اسلام میں عدل محض ایک اخلاقی قدر نہیں،بلکہ معاشرتی زندگی کی بنیاد اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مضبوط ترین حصار ہے۔
بحیثیتِ مجموعی،یہ کتاب سیرتِ پاکﷺ کے سنجیدہ طلبہ کے لیے ایک نہایت مفید اور وقیع علمی کاوش ہے،جسے بلا تأخیر حاصل کر کے ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کے صفحات سیرتِ طیبہ کو محض واقعات کے مجموعے کے طور پر نہیں،بلکہ فکر و کردار کی تعمیر اور زندگی کی رہنمائی کے سرچشمے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ اسے اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں،تاکہ ہمارا کردار خود سیرتِ رسولﷺ کی دعوت بن جائے۔
آج امت کو ایسی ہی سیرت شناسی درکار ہے جو علم کو عمل،محبت کو اتباع اور مطالعے کو دعوت و اصلاح سے جوڑ دے۔اگر اس کتاب کے پیغام کو دل کی گہرائیوں سے قبول کر کے آگے پہنچایا جائے تو یہ نہ صرف ہماری زندگیوں کو منور کر سکتی ہے،بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے خیر،بیداری اور اصلاح کی راہ میں ایک مؤثر چراغِ راہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
______________________________________
کتاب کا نام:اسوۂ حسنہﷺ
مصنف:ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی
صفحات:208
قیمت:370
ناشر:ملّت پبلشرز اینڈ ڈسٹریبوٹرس
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:9419561922
Comments
Post a Comment