یومِ اساتذہ:دو شاگرد،ایک خوب صورت خواب

  پچھلے کئی برسوں سے بحیثیتِ استاد اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔اس دوران بے شمار طلبہ کو پڑھانے،ان کی تربیت کرنے اور انہیں زندگی کی مختلف راہوں پر آگے بڑھتے دیکھنے کا موقع ملا،مگر استاد کے لیے اس سے بڑھ کر مسرت اور اعزاز کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے شاگرد اپنی محنت،صلاحیت اور عزم کے بل پر کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مستقبل کے معمار بننے کی طرف بڑھیں۔

       آج اسکول میں یومِ اساتذہ کے سلسلے میں ایک خوب صورت اور یادگار پروگرام منعقد ہوا،جس میں میرے دو عزیز شاگرد شجاعت الاسلام اور محراب مشتاق بھی مدعو تھے۔دونوں نے حالیہ NEET امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔انہیں اپنے سامنے کامیابی کی اس منزل پر دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی خوشی اور بے ساختہ فخر کا احساس پیدا ہوا۔میرے لیے یہ محض دو طلبہ کی کامیابی نہیں،بلکہ ایک استاد کی برسوں کی محنت کے لیے قدرت کی طرف سے عطا کیا گیا ایک خوب صورت تحفہ تھا۔
       یہ دونوں ہونہار نوجوان ان شاء اللّٰہ مستقبل میں طب کے میدان میں قدم رکھیں گے اور ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کریں گے۔میری دلی خواہش ہے کہ ان کے ہاتھوں میں صرف طب کی مہارت نہ ہو،بلکہ دل میں انسانیت کا درد،نگاہ میں ہمدردی،مزاج میں شرافت اور کردار میں تقویٰ بھی ہو،کیونکہ ایک اچھا ڈاکٹر صرف جسم کا علاج نہیں کرتا،وہ اپنے حسنِ اخلاق سے مریض کے دل کو بھی سہارا دیتا ہے۔
          اس پروگرام میں مجھے بھی اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا گیا،چنانچہ”علم کا مقصود“کے عنوان سے اپنے خیالات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ علم کی حقیقی منزل محض ڈگری،عہدہ یا معاشی آسودگی نہیں،بلکہ علم انسان کے اندر حق شناسی،خدا شناسی،کردار سازی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرے،تب ہی علم اپنی حقیقی معنویت کو پا سکتا ہے۔
       پروگرام کے اختتام پر جب اپنے ان دونوں شاگردوں کو چند انمول نصیحتیں کرنے کا موقع ملا تو محسوس ہوا کہ استاد اور شاگرد کا تعلق صرف کلاس روم اور کتاب تک محدود نہیں،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں استاد اپنی علمی میراث کے ساتھ اپنی دعائیں اور اپنے خواب بھی شاگرد کے حوالے کرتا ہے۔
        اور استاد کے لیے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں کہ اس کے شاگرد اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں استاد کی محنت،شاگرد کی کامیابی بن کر سامنے آئے اور شاگرد کی کامیابی،استاد کے لیے دعا بن جائے۔
       اسی موقع پر میں نے اپنی حالیہ شائع ہونے والی کتاب”اسلامی عقائد“بھی دونوں کو بطورِ تحفہ پیش کی،تاکہ طب کی تعلیم کے ساتھ دین کی بنیادی تعلیمات بھی ان کے سفر کا حصہ رہیں۔میری خواہش ہے کہ ان کے ہاتھ میں کتابِ طب کے ساتھ کتابِ ہدایت بھی ہو،تاکہ وہ علم کو صرف پیشہ نہیں بلکہ خدمت،عبادت اور انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ بنا سکیں۔
     آج جب میں اپنے ان دونوں شاگردوں کو مستقبل کے ڈاکٹر کی حیثیت سے دیکھتا ہوں تو دل بے اختیار دعا کرتا ہے:
اے اللّٰہ! شجاعت الاسلام اور محراب مشتاق کو علم و عمل کی دولت سے مالا مال فرما،ان کے علم میں برکت عطا فرما،انہیں انسانیت کے لیے ہمدرد،غم خوار اور باکردار ڈاکٹر بنا،ان کے ہاتھوں سے مخلوقِ خدا کو نفع پہنچا،اور انہیں ایسا علم عطا فرما جو ان کے لیے دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن جائے۔آمین یا رب العالمین۔

Comments