نوٹ:بشکریہ ہفتہ روزہ رہبر،سری نگر کے آج کے شمارے میں راقم کا مضمون ”داعیِ اعظمﷺ کا سوزِ ہدایت“ ملاحظہ فرمائیے۔یہ تحریر دراصل اُس بے مثال داعیانہ تڑپ،سوزِ ہدایت اور فکرِ انسانیت کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے،جو سیرتِ طیبہﷺ کا روشن ترین باب ہے۔
اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے نوعِ انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بے شمار انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔یہ مقدس ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں مخصوص اقوام کی اصلاح،تزکیۂ نفوس اور ربّانی تعلیمات کی تبلیغ کے لیے مامور ہوتی رہیں۔بالآخر جب نوعِ انسانی اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے شعور و بلوغ کے مرحلے تک پہنچ گئی تو اللّٰہ تعالیٰ نے خاتم النّبیین،حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپﷺ پر آخری آسمانی دستور،قرآنِ مجید،نازل فرمایا،جو قیامت تک پوری نوعِ انسانی کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔اس عظیم کتاب کی حفاظت کا ذمہ بھی اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے خود اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے۔
جب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو بالخصوص سرزمینِ عرب کی طرف مبعوث فرمایا گیا تو وہاں جہالت و گمراہی کی گھٹا ٹوپ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔صحرائی زندگی،قبائلی عصبیتوں اور جاہلی رسوم و روایات میں صدیوں سے گرفتار عرب معاشرہ اخلاقی،سماجی اور فکری انحطاط کا شکار ہو چکا تھا۔جہالت اس قدر عام تھی کہ اس قوم کی اصلاح اور اسے انسانیت کی حقیقی منزل سے آشنا کرنا بظاہر ایک ناممکن امر دکھائی دیتا تھا،لیکن نبیِ رحمتﷺ نے قرآنِ مجید کی تعلیمات اور اپنی سیرتِ طیبہ کے ذریعے اسی بگڑی ہوئی قوم کی کایا پلٹ دی۔
محض تئیس برس کے مختصر عرصے میں رسولِ اکرمﷺ نے ایک ایسا ہمہ گیر،ہمہ جہت اور تاریخ ساز انقلاب برپا فرمایا جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔انسانی تاریخ کے بیشتر انقلابات نے زندگی کے کسی ایک مخصوص شعبے کو متاثر کیا اور اپنے نقوش اسی محدود دائرے تک قائم رکھے،لیکن انقلابِ محمدیﷺ نے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی،عقیدہ و عبادت،اخلاق و کردار،سیاست و معیشت،معاشرت و تمدن،عدالت و قانون اور فکر و عمل—غرض زندگی کے ہر گوشے کو اپنے نور سے منور کر دیا۔
تاریخِ انسانی کی عظیم شخصیات میں بہت سے ایسے نام ملتے ہیں جو کسی ایک پہلو سے غیر معمولی بلندی پر فائز نظر آتے ہیں،لیکن زندگی کے دوسرے گوشوں میں ان کی عظمت اسی درجے پر دکھائی نہیں دیتی۔اس کے برعکس پوری انسانی تاریخ میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰﷺ وہ واحد اور بے مثال شخصیت ہیں جن کی ذاتِ اقدس زندگی کے ہر شعبے میں کمال و عظمت کی بلند ترین منزل پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔آپﷺ بیک وقت عظیم داعی،مربی،معلم،مصلح،قائد،سپہ سالار،حکمران،منصف،شوہر،باپ،دوست اور پوری انسانیت کے سب سے عظیم محسن کی حیثیت سے ہمارے سامنے موجود ہیں۔قرآنِ مجید نے آپﷺ کی عالم گیر رہنمائی کو”سِرَاجًا مُّنِيرًا“،یعنی روشن چراغ قرار دیا ہے۔
رسولِ اکرمﷺ کی اسی ہمہ گیر عظمت کا اعتراف اپنوں ہی نے نہیں،بلکہ غیروں کو بھی کرنا پڑا۔چنانچہ معروف مغربی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب The 100 میں تاریخ کی سو بااثر ترین شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت محمدﷺ کو اس فہرست میں سب سے پہلے مقام پر رکھا اور آپﷺ کے غیر معمولی تاریخی اثر و رسوخ کا اعتراف کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
“My choice of Muhammad to lead the list of the world's most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others,but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels.”(Michael H. Hart,The 100:A Ranking of the Most Influential Persons in History,New York:Hart Publishing Company,Inc.,1978,p.33.)
اگرچہ حضورِ اکرمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ ہمارے لیے اُسوۂ حسنہ اور نمونۂ عمل ہے،جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔(الأحزاب:21)
’’یقیناً تمہارے لیے اللّٰہ کے رسولﷺ کی ذات میں نہایت عمدہ نمونہ ہے۔‘‘
تاہم آپﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ایک نہایت نمایاں،دل نشیں اور اپنے اندر بے پناہ کشش رکھنے والا پہلو آپﷺ کی داعیانہ تڑپ اور ہدایت کی بے قراری ہے۔آپﷺ لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قدر مضطرب رہتے تھے کہ ہر لمحہ اور ہر آن انہیں راہِ راست پر لانے کی فکر دامن گیر رہتی۔آپﷺ کے قلبِ مبارک میں انسانیت کی نجات کا ایسا درد موجزن تھا کہ کسی شخص کو کفر و شرک کی تاریکیوں میں بھٹکتا دیکھتے تو آپﷺ کا دل بے قرار ہو جاتا۔
یہ اسی داعیانہ بے قراری کا نتیجہ تھا کہ آپﷺ نے مکہ مکرمہ کے ایک ایک فرد تک پہنچ کر اسے قبولِ حق کی دعوت دی،قریش کے سرداروں کو مخاطب کیا،مکہ کے غریبوں،کمزوروں اور غلاموں تک بھی دعوتِ حق پہنچائی۔غرض یہ کہ آپﷺ نے کسی دروازے کو دعوت سے خالی نہ چھوڑا،ہر ضمیر پر دستک دی اور ہر کان تک حق کی آواز پہنچانے کی بھرپور کوشش فرمائی۔لیکن مشرکینِ مکہ کی طرف سے آپﷺ کو ہر طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔قدم قدم پر حوصلہ شکنی کی گئی،دل آزاری کی گئی اور روحانی و جسمانی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا،لیکن ان تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کے پائے استقامت میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔مایوس ہونا تو درکنار،لوگوں کی ہدایت کے لیے آپﷺ کی درد مندی،خیر خواہی اور بے قراری دن بدن بڑھتی ہی چلی گئی۔
یہی داعیانہ تڑپ تھی جس کے نتیجے میں جب مشرکینِ مکہ نے دعوتِ حق کو قبول کرنے سے انکار کیا تو آپﷺ نے دعوت کے لیے نئے میدانوں کی تلاش شروع کی۔انہی کٹھن حالات میں دینِ حق کی دعوت پہنچانے کے لیے آپﷺ نے طائف کا وہ تاریخی سفر اختیار فرمایا جو سیرتِ نبویﷺ کا ایک نہایت دردناک مگر تاب ناک باب ہے۔اس سفر میں آپﷺ کو بے پناہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔طائف کے اوباش لوگوں نے آپﷺ پر پتھر برسائے،یہاں تک کہ جسمِ اطہر لہولہان ہوگیا،لیکن ان شدید مصائب کے باوجود آپﷺ کے عزم و حوصلے میں ذرہ بھر کمی نہ آئی۔آپﷺ کی داعیانہ تڑپ مزید بڑھتی چلی گئی اور انسانیت کو راہِ ہدایت پر لانے کی فکر پہلے سے زیادہ شدّت اختیار کرتی گئی۔
آپﷺ کی اسی بے مثال داعیانہ تڑپ کا عالم تھا کہ آپﷺ نے نہ رات کی پروا کی،نہ دن کی،نہ بیماری کو حائل ہونے دیا،نہ صحت کو غنیمت سمجھ کر دعوت سے کنارہ کشی اختیار کی،نہ آسائش کو اہمیت دی،نہ مشقت کی پروا کی۔آپﷺ ہر لمحہ اور ہر آن دعوتِ دین کے عظیم فریضے کو جاری و ساری رکھتے اور جہاں بھی دعوت کا کوئی موقع میسر آتا،اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے۔آپ ﷺ کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن گواہی ہے کہ داعی کے دل میں اگر انسانیت کی ہدایت کا حقیقی درد پیدا ہو جائے تو مشکلات اس کے قدم نہیں روک سکتیں اور مخالفتیں اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
آپﷺ کی بے قراری صرف جسمانی مشقت تک محدود نہ تھی،بلکہ جب قوم نے آپﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو آپﷺ ان کے غم میں اندر ہی اندر گھلنے لگے۔آپﷺ کی اسی کیفیت پر اللّٰہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے بارہا آپﷺ کو تسلی دی:
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا۔(الکہف:6)
’’ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان کھو دو گے۔‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔(الشعراء:3)
’’ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو تم غم کے مارے اپنی جان دے دو گے۔‘‘
ایک طرف مسلسل،انتھک محنت و جدوجہد تھی اور دوسری طرف تمسخر،استہزا،دل آزاری،گالم گلوچ اور پاگل و مجنون جیسے القابات۔ذرا تصور کیجیے کہ اس صورتِ حال میں آپﷺ کے قلبِ مبارک پر کیا گزرتی ہوگی! قرآنِ مجید نے”بَاخِعٌ نَّفْسَكَ“ کے الفاظ میں آپﷺ کی اسی قلبی کیفیت کی نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں عکاسی کی ہے۔
آپ ﷺ کے دل میں ایک ہی دُھن تھی،ایک ہی شوق تھا،ایک ہی غم تھا اور ایک ہی سوز تھا کہ کسی طرح یہ لوگ راہِ راست پر آجائیں،اللّٰہ کی پکڑ اور عذاب سے محفوظ ہوجائیں اور دنیا میں عدل و قسط کا نظام قائم کرنے کے لیے کوشاں ہو جائیں۔یہی فکر تھی جس نے آپﷺ کے دن اور رات کو ایک کر دیا تھا۔
ایک طرف آپﷺ کے دل میں اپنے رب اور اس کی مخلوق کی بے پایاں محبت تھی،اور دوسری طرف یہ اندیشہ کہ جن لوگوں سے آپﷺ محبت کرتے ہیں،وہ اپنے محبوبِ حقیقی سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔چنانچہ آپﷺ انہیں آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچانے اور ربِ ذوالجلال کی راہ پر لانے کے لیے ہر لمحہ محوِ جستجو رہتے تھے۔آپﷺ نے خود اپنی اس کیفیت کی نہایت بلیغ مثال بیان فرمائی:
’’میری مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی۔جب اس کے گرد و پیش کو روشن کر دیا تو کیڑے اور پروانے اس آگ میں گرنے لگے۔وہ شخص انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن کیڑے اور پروانے اس کی کوشش پر غالب آتے جاتے ہیں اور آگ میں گرتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں،لیکن تم ہو کہ آگ میں گرے پڑ رہے ہو۔‘‘(بخاری،مسلم)
مخلوقِ خدا کی ہدایت کی خاطر ہم نے حضورِ اکرمﷺ کی دن رات بے قراری،مسلسل محنت اور انتھک جدوجہد کا مشاہدہ کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ داعیِ اعظمﷺ کی دعوتی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جس دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہو،وہ دوسروں کے اندھیروں سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔آپﷺ نے انسانیت کو روشنی دی،اب آپﷺ کے امتی ہونے کے ناتے ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی محبت،حکمت اور اخلاص کے ساتھ اس روشنی کو آگے بڑھائیں۔آج ہم محبتِ رسولﷺ اور عشقِ نبیﷺ کا خوب چرچا کرتے ہیں،لیکن ہمیں ایک لمحے کے لیے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا چاہیے اور اپنے دل سے چند سوالات کرنے چاہییں:
کیا ہمارے دل میں مخلوقِ خدا کی ہدایت اور خیر خواہی کا حقیقی درد موجود ہے؟
کیا کسی انسان کو گمراہی اور نافرمانی کی تاریکیوں میں بھٹکتا دیکھ کر ہمارا دل بے قرار ہوتا ہے؟
کیا ہم نے اپنے والدین،اہلِ خانہ،عزیز و اقارب،دوستوں اور اپنے ساتھ پڑھنے یا کام کرنے والوں تک حق کی دعوت پہنچانے کی کبھی سنجیدہ کوشش کی ہے؟
کیا ہمیں اپنی اولاد کے روشن مستقبل کی فکر کے ساتھ ان کی دینی تربیت،ہدایت اور آخرت کی کامیابی کی بھی اتنی ہی فکر ہے؟
کیا ہماری گفتگو،ہمارا اخلاق،ہمارا کردار،ہماری تحریریں اور ہماری سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی دعوتِ دین کا ذریعہ بنتی ہیں؟
کیا اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں جو علم،وقت،قلم،زبان،مال اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے کچھ حصہ ہم نے اشاعتِ حق کے لیے مخصوص کیا ہے؟
کیا ہم دعوت کو صرف علماء اور دینی کارکنوں کی ذمہ داری سمجھتے ہیں،یا اپنی استطاعت کے مطابق اسے اپنا دینی فریضہ بھی سمجھتے ہیں؟
کیا ہم گناہ گار اور دین سے دور لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،یا ان کی اصلاح و ہدایت کے لیے اپنے دل میں خیر خواہی اور درد محسوس کرتے ہیں؟
کیا ہماری دعوت میں محبت،حکمت اور خیر خواہی کا رنگ غالب ہے،یا ہماری سختی،ملامت اور اندازِ گفتگو لوگوں کو دین سے مزید دور کر دیتا ہے؟
کیا ہم دعوت دینے سے پہلے اپنے کردار کو اس دعوت کا عملی نمونہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہمارے قریب رہنے والے بعض لوگ شاید ہماری ایک محبت بھری گفتگو،ایک خیر خواہانہ جملے یا ایک اچھے عملی نمونے کے منتظر ہوں؟
کیا ہم دعوت کے راستے میں لوگوں کی بے اعتنائی،مخالفت اور سخت رویوں سے مایوس ہو جاتے ہیں،یا داعیِ اعظمﷺ کی طرح صبر،حکمت اور استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں؟
کیا ہم دعوت کے نتائج کو اپنی کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں،یا اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو اصل کامیابی سمجھ کر نتائج اللّٰہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں؟
کیا ہم معاشرے کی خرابیوں پر صرف گفتگو اور تنقید کرتے ہیں،یا ان کی اصلاح کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوئی عملی قدم بھی اٹھاتے ہیں؟
کیا ہماری مجلسیں،ہماری صحبتیں اور ہماری موجودگی لوگوں کو اللّٰہ کی یاد،آخرت کی فکر اور نیکی کی رغبت عطا کرتی ہیں،یا ہم بھی انہیں دنیا کی غفلتوں میں مزید الجھا دیتے ہیں؟
کیا ہم نے اپنی مصروف زندگی میں دعوت،اصلاح اور خیر خواہی کے لیے باقاعدہ وقت نکالا ہے،یا یہ عظیم کام ہمیشہ ہماری ترجیحات میں مؤخر ہوتا رہتا ہے؟
کیا ہم نے کبھی کسی ایسے شخص کو اپنا وقت،توجہ اور محبت دی ہے جسے معاشرے نے نظر انداز کر دیا ہو،مگر شاید وہ ہدایت اور خیر خواہی کا سب سے زیادہ محتاج ہو؟
کیا ہم اختلافِ رائے رکھنے والے شخص تک بھی حکمت،وسعتِ قلبی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ حق کی بات پہنچانے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی اپنے دل سے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے وجود سے کتنے انسانوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت،دین کی محبت اور آخرت کی فکر نصیب ہوئی؟
کیا ہماری محبتِ رسولﷺ محض زبان کے دعوے،محافل اور جذباتی اظہار تک محدود ہے،یا اس محبت نے ہمیں آپﷺ کے مشن،سنتِ دعوت اور انسانیت کی خیر خواہی سے جوڑ دیا ہے؟
اور آخر میں،سب سے بڑا سوال:
اگر ہم واقعی حضورِ اکرمﷺ کے امتی ہیں،تو کیا ہماری زندگی میں بھی ہدایت کا وہ سوز،انسانیت کا وہ درد اور دعوتِ حق کی وہ بے قراری موجود ہے جو آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کا نمایاں وصف تھی؟
یقین جانیے! جب تک کسی نہ کسی درجے میں حضورِ اکرمﷺ کی وہ داعیانہ تڑپ،انسانیت کے لیے وہ درد،خیر خواہی کا وہ جذبہ اور ہدایت کی وہ بے قراری ہماری زندگیوں میں نہیں اترے گی،اس وقت تک ہم اس عظیم کام کو انجام دینے،بلکہ اس کا نام لینے کے بھی حقیقی طور پر اہل نہیں ہو سکتے جسے نبیِ کریمﷺ نے اپنی پوری زندگی کا مشن بنایا تھا۔
لہٰذا ہمیں اپنے دعوائے محبتِ رسولﷺ کو اپنے عمل کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ہمیں اپنے دلوں میں ہدایت کا درد پیدا کرنا ہوگا،اپنی زندگیوں میں سنتِ دعوت کو زندہ کرنا ہوگا اور مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ محبتِ رسولﷺ محض جذبات کا نام نہیں،یہ اتباع،اطاعت،خیر خواہی،ایثار اور مشنِ نبویﷺ سے وابستگی کا نام بھی ہے۔اگر حضورِ اکرمﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں واقعی زندہ ہے تو اس محبت کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم انسانیت کے لیے خیر کے سفیر بنیں،گمراہی میں بھٹکتے انسانوں کے لیے ہدایت کا چراغ جلائیں اور جہاں تک ممکن ہو،حکمت،محبت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اللّٰہ کے دین کا پیغام پہنچائیں۔
آخر میں اللّٰہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حضور دستِ دعا بلند ہے کہ وہ ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے،ہمارے دلوں میں ہدایت کا سوز اور داعیانہ تڑپ پیدا فرمائے،ہمیں دینِ حق کی صحیح سمجھ عطا فرمائے،ہماری زندگیوں کو سنتِ نبویﷺ کا آئینہ بنائے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت،اشاعتِ حق اور مخلوقِ خدا کی خیر خواہی و ہدایت کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اے اللّٰہ! ہمارے دلوں کو اپنے محبوبﷺ کی محبت سے منور فرما،اس محبت کو اتباع و اطاعت میں تبدیل فرما،اور ہمیں اپنے محبوبﷺ کے مشن کا سچا امتی اور خیر خواہی و دعوت کا پیکر بنا دے۔آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment