دنیا میں بے شمار انقلابات رونما ہوئے،مگر ان میں سے بیشتر جزوی اور محدود نوعیت کے تھے۔انہوں نے زندگی کے کسی ایک یا چند مخصوص شعبوں کو متاثر کیا اور اپنے اثرات بھی ایک محدود دائرے تک چھوڑ دیے۔اس کے برعکس،نبیِ رحمتﷺ نے جو انقلاب برپا فرمایا،وہ ہمہ گیر بھی تھا اور ہمہ جہت بھی۔اس انقلاب نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی تاثیر سے بدل ڈالا،خواہ وہ عقائد و افکار کا میدان ہو یا اخلاق و کردار کا،معاشرت و سیاست کا ہو یا معیشت و عدالت کا،تہذیب و تمدن کا ہو یا اجتماعی زندگی کا—ہر شعبۂ حیات میں ایک عظیم الشان تبدیلی رونما ہوئی۔
نبیِ رحمتﷺ کی ذاتِ اقدس چونکہ عالمگیر تھی،اس لیے آپﷺ کا برپا کردہ انقلاب بھی عالمگیر اور آفاقی تھا۔تاریخ کے اوراق اس عظیم انقلاب کی گواہی دیتے ہیں اور یہ حقیقت بھی آشکار کرتے ہیں کہ اگر حقیقی،ہمہ گیر اور دیرپا انقلاب کی کوئی کامل مثال تلاش کی جائے تو وہ پیغمبرِ اعظمﷺ کا برپا کردہ انقلاب ہے،ایک ایسا انقلاب جس نے محض تئیس برس کے مختصر عرصے میں انسانی فکر و شعور،کردار و عمل اور اجتماعی زندگی کی کایا پلٹ دی۔اس انقلاب کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کی بنیاد تشدد و انتقام پر نہیں،بلکہ محبت،رحمت اور خیرخواہی پر استوار تھی۔محسنِ انسانیتﷺ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ جو انقلاب انتقام کی آگ میں پروان چڑھے،وہ دوسروں کو راکھ کرنے سے پہلے اپنی بنیادیں کھو بیٹھتا ہے۔چنانچہ آپﷺ نے گردنوں کو جھکانے کے بجائے دلوں کو فتح کیا،منتشر انسانوں کو اخوت کی لڑی میں پرویا اور نفرت کے شعلے بھڑکانے کے بجائے محبت و ہدایت کی روشنی سے جہالت کی تاریکیوں کو منور فرمایا۔
جب حضورِ اکرمﷺ نے سرزمینِ عرب میں انقلابِ محمدیﷺ کا آغاز فرمایا تو آپﷺ کے سامنے موافقت کی نرم راہیں نہیں،بلکہ مخالفت کا ایک ایسا طوفان تھا جس نے ہر سمت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔آپﷺ کا مقصد محض چند رسوم و عادات کی اصلاح یا معاشرے کے کسی ایک گوشے میں تبدیلی پیدا کرنا نہ تھا،بلکہ پورے جاہلی نظامِ حیات کے فرسودہ ڈھانچے کو توحید،عدل،اخلاق اور انسانیت کی بنیادوں پر ازسرِنو استوار کرنا تھا۔چنانچہ دعوتِ حق کی صدا بلند ہوتے ہی مفاد پرستوں کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور ہر طرف سے مخالفت کے سنگ برسنے لگے۔اس راہ میں آزمائشیں آئیں،طعنوں کے تیر چلے،ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں،مگر آپﷺ کے عزم میں ذرّہ بھر لغزش نہ آئی۔آپﷺ نے نہ دباؤ کے سامنے سر جھکایا،نہ مصلحت کے نام پر اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے اور نہ مخالفت کی شدت آپﷺ کے قدموں کو منزل سے دور کر سکی۔آپﷺ مسلسل،بے خوف اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی دعوت کی تکمیل کی طرف بڑھتے رہے۔
بظاہر اس عظیم انقلاب کے لیے دنیاوی وسائل کی فراوانی آپﷺ کے پاس نہ تھی،لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایسے معجزات عطا فرمائے جن کے سامنے انسانی طاقتیں بے بس تھیں۔معجزۂ اخلاق نے پتھر جیسے دلوں کو موم کیا،معجزۂ کلام نے ذہنوں کو مسخر کیا،مگر ان سب میں سب سے زیادہ انقلاب آفریں ہتھیار معجزۂ قرآن تھا۔یہ وہ کتابِ انقلاب تھی جس نے سب سے پہلے اپنے حاملﷺ ہی کے وجودِ مبارک میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا،پھر اسی انقلاب کی روشنی سے ایک پوری قوم کے فکر و شعور،کردار و عمل اور زندگی و نظام کو بدل ڈالا۔
قرآن کے فیضان سے وہ ہستیﷺ،جسے دنیا ’’اُمّی‘‘ کہتی تھی،علم و حکمت کا ایسا سرچشمہ بن گئی کہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے علم و ہدایت کا مرکز قرار پائی۔جس مکہ پر جاہلیت کی تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں،اسی کے افق پر آپﷺ سِراجًا مُنِیرًا بن کر طلوع ہوئے،ایسا روشن چراغ جس کی روشنی نے صرف عرب کی تاریکیوں کو ہی نہیں چیرا بلکہ انسانیت کے افق کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔یہ محض ایک معاشرتی تبدیلی نہ تھی،بلکہ قرآن کے ہاتھوں انسان کی تعمیرِ نو اور محمدِ عربیﷺ کے ذریعے تاریخ کی تشکیلِ نو کا آغاز تھا۔ڈاکٹر محمد اسلم صدیقیؒ لکھتے ہیں:
”سب سے پہلے قرآن کریم کی عظمت اس طرح ہمارے سامنے واضح ہوتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی کتاب ہے جس کی وجہ سے یہ امت خیر الام بنی ہے اور آنحضرتﷺ جو وجہِ تخلیقِ کائنات خاتم الانبیاء و الرسل اور سید الاولین و الاخرین ہیں۔جہاں ان کے افضل و اشرف ہونے کے اور بہت سے اسباب ہیں،ان میں سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آپ پر قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گئی۔یہی وہ کتاب ہے جس کے حقِ امانت کی ادائیگی نے آپ کو حرا کی تنہائیوں سے باہر آنے پر مجبور کیا۔آپ جو انتہائی کم آمیز واقع ہوئے تھے اور عزلت نشینی اور گوشہ گیری آپ کے سکون واطمینان کا ذریعہ بن گئی تھی،اس کتاب کی گراں باریوں نے اختلاط و معاشرت ہی نہیں،ایک ایک دروازے پر آپ کو دستک دینے پر مجبور کر دیا۔آپ جو انتہائی کم گو دیکھے جاتے تھے اور کبھی کسی نے آپ سے خطبہ و تقریر تو دور کی بات ہے،کلمہ نصیحت بھی نہیں سنا تھا۔اب آپ کی زبان سے حکمت و نصیحت کا چشمہ ابلنے لگا۔اسی کتاب عزیز کی تلاوت اس کی تعلیم،اس کی حکمت و دانش،اس کی تبشیر وانذار،اس کے عہد و مواعید اور اس کی تبلیغ و دعوت آپ کی زندگی کا معمول بن گئی۔پھر اس کے نتیجے میں آپ کی ذات جو ہر طرح کی تعریف و تحسین اور اعزاز و اکرام کی مستحق سمجھی جاتی تھی،تنقید ہی نہیں ہر طرح کے الزام و دشنام اور ہر طرح کی ایذا کا ہدف بن گئی اور زندگی کا ہر زخم اور ہر دکھ آپ نے اس بار امانت کی ادائیگی کے سلسلے میں نہایت صبر و سکون سے برداشت فرمایا۔یہ ذات عزیز وگرامی،جنؐ کے پاؤں کی دھول بھی ساری کائنات سے افضل ہے،انؐ کے سر مبارک پر راکھ پھینکی گئی۔آپﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔آپﷺ کی جان لینے کی تدبیریں کی گئیں۔طائف میں آپﷺ پر پتھروں کی بارش کی گئی۔آپﷺ کو وطن سے بے وطن کیا گیا۔جان و تن کی آزمائشوں سے گزرنے پر مجبور کیا گیا تاآنکہ اسی نسخہء کیمیا سے آپﷺ نے عرب کی مس خام کو کندن بنا دیا اور ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کے نتیجیے میں:
*رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا*
*اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا*
(تفسیر روح القرآن،جلد اول،ص 38-37)
نبیِ رحمتﷺ نے انقلاب کے آغاز ہی میں ترجیحی بنیادوں پر ایسے انسان تیار کیے جو آگے چل کر معاشرے کی تعمیر اور تاریخ کی تشکیل کا فریضہ انجام دینے والے تھے۔یہی وہ بنیادی امتیاز ہے جو انقلابِ محمدیﷺ کو دیگر انسانی ساختہ انقلابات سے ممتاز کرتا ہے۔بہت سی انقلابی تحریکوں نے خارجی نظام،اداروں اور سیاسی ڈھانچوں کی تبدیلی کو اپنا نقطۂ آغاز بنایا،مگر انسان کے باطن،اس کے قلب و ذہن اور اخلاقی وجود کی تعمیر کو وہ بنیادی اہمیت نہ دے سکیں جو کسی پائیدار انقلاب کے لیے ناگزیر ہے۔چنانچہ ظاہری ڈھانچے بدلنے کے باوجود انسانی خواہشات،مفادات اور نفسیاتی کمزوریاں نئے نظاموں میں بھی اپنا اثر دکھاتی رہیں۔اس کے برعکس،محمدِ عربیﷺ نے انقلاب کی بنیاد انسان کے اندر رکھی۔آپﷺ کے ہاتھ میں معجزۂ اکبر،سرچشمۂ ہدایت اور مؤثر ترین آلۂ انقلاب قرآنِ مجید تھا،جس نے انسان کی فکر کو پاکیزگی،قلب کو ایمان،کردار کو تقویٰ اور زندگی کو مقصدِ آخرت عطا کیا۔قرآن نے اس کی نگاہ بدل دی،اس کے پیمانے بدل دیے،اس کی ترجیحات کی تشکیلِ نو کی اور اس کے کردار میں ایک نئی روح پھونک دی۔یوں پہلے انسان بدلا،پھر اسی بدلے ہوئے انسان نے اپنے گرد کے معاشرے کو بدلنے کا بیڑا اٹھایا اور یہی وہ ترتیب تھی جس نے انقلابِ محمدیﷺ کو محض ایک وقتی تبدیلی نہیں رہنے دیا،بلکہ اسے معاشرے کی تعمیر اور تاریخ کی تشکیل کرنے والا ہمہ گیر انقلاب بنا دیا۔
انقلابِ محمدیﷺ دراصل ایک گہرا تعلیمی،تربیتی اور اخلاقی انقلاب تھا۔آپﷺ نے فرد کے فکر و شعور کو سنوارا،کردار کو نکھارا اور دل میں اللّٰہ کی معرفت،انسانیت کی محبت اور خیرخواہی کا چراغ روشن کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ وحشی انسان بن گئے،منتشر افراد ایک امت میں ڈھل گئے اور بظاہر معمولی انسان تاریخ ساز کرداروں کے حامل بن گئے۔اس انقلاب کی قوت تلوار کی دھار سے زیادہ کردار کی تاثیر میں،جبر و تشدد سے زیادہ تعلیم و تربیت میں اور ظاہری نظم سے زیادہ دلوں کی اصلاح میں پوشیدہ تھی۔نعیم صدیقیؒ اس اندرونی انقلاب کی تصویر اس طرح پیش کرتے ہیں:
”محسنِ انسانیت کے کارنامے کا مبہوت کر دینے والا یہ پہلا بڑا ہی اہم ہے کہ انسان اندر سے بدل گیا اور یکسر بدل گیا۔انسانی روپ میں جو خواہش پرست حیوان پایا جاتا تھا،کلمہ حق کے اثر سے وہ بالکل مٹ گیا اور معاً اس کی راکھ سے خدا پرست اور بااصول انسان ابھر آیا۔اس نئے انسان کے کردار کی درخشانی دیکھئے تو آنکھوں میں چکا چوند آجاتی ہے۔حضرت عمرؓ جیسا مکّہ کا یک میخوار نوجوان بدلا تو کہاں پہنچا! فضالہ میں تبدیلی آئی تو کس شان سے! ذوالبجادین کو دیکھیے کہ کس طرح دولت و آسائش کو لات مار کے درویشانہ زندگی اختیار کرتا ہے؟ حضرت ابوذرؓ کو لیجیے کیا انقلابی جذبہ ہے کہ کعبہ میں کھڑے ہو کر جاہلیت کو چیلنج کیا اور خوب مار کھائی۔كعب بن مالکؓ کا کردار دیکھئے،ابو خثیمہؓ کا رنگ ملاحظہ فرمائے۔ لبینہؓ اور سمیہؓ جیسی کنیزوں کی انقلابی شجاعت و عزیمت پر نگاہ ڈالئے،ماعزؓ بن مالک اسلمی اور غامدیہؓ پر توجہ کیجیے،نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیارؓ کی جرات سے سبق لیجئے۔ایرانی سپہ سالار کے دربار میں ربعی بن عامرؓ کی شانِ استغنا سے روح اخذ کیجئے اور تاروں کے اس جھرمٹ میں سے کون ہے جس کا ایمان لمعہ نگن نہیں ہے ۔ان ہستیوں سے وہ معاشر بنا اور اسے قائدین اور کارکن کے ہاتھوں وہ نظامِ حق ا جس نے اگر بندشِ شراب کی منادی کی تو ہونٹوں سے لگے ہوئے پیالے فوراً الگ ہو گئے اور بہترین شراب کے مٹکے گلیوں میں لنڈھا دیئے گئے۔جس نے اگر عورتوں کو سرو سینہ ڈھانپنے کا حکم دیا تو حکم ملتے ہی کسی تاخیر کے بغیر دوپٹے اور اوڑھنیاں بنائی گئیں۔جس نے اگر جہاد کے لئے پکارا تو نوعمر لڑکے تک ایڑیوں پر کھڑے ہو ہو کر یہ کوشش کرتے دکھائی دیے کہ وہ واپس لوٹائے جانے سے بچ جائیں۔جس نے اگر چندہ طلب کیا تو جہاں حضرت عثمانؓ جیسے دولت مند تاجروں نے سامان سے لدے ہوئے اونٹوں کی قطاریں لا لا کے کھڑی کر دیں اور تحقیر اور حضرت ابوبکرؓ جیسے فدائیوں نے گھر کی ساری متاع تحریک کے قدموں میں ڈال دی۔وہاں ایسے مزدور بھی تھے جنہوں نے دن بھر کی مزدوری سے حاصل شدہ کھجوریں جنگی فنڈ میں دے کر دامن جھاڑ دیا۔جس نے اگر مہاجرین کی بحالی کے لئے انصار کو پکارا تو انھوں نے اپنے مکان اور کھیت اور باغ آدھوں آدھ بانٹ دیئے اور اخوت کا ایک بے مثال سماں پیدا کر دیا۔جس نے اگر عہدوں کو خدمت کی روح سے بالاتر کر کے سول سروس کے لئے کارکن طلب کیے تو ایک در ہم روز کے قلیل معاوضے پر گورنری کے فرائض انجام دینے والے حکام دنیا کے سامنے نمودار ہوئے۔جس نے اگر مالِ غنیمت کو سپہ سالار کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا تو اس شان سے تعمیل کی گئی کہ فوج ایک ایک سوئی اپنے افسر کو پیش کر دیتی تھی اور یہ واقعہ ہمیشہ تاریخ میں درخشاں رہے گا کہ مدائن کے اموال کا ایک قیمتی حصہ عامر نامی سپاہی کے ہاتھ آتا ہے اور بغیر اس کے کسی کو بھی خزانہ زر و جواہر کا علم ہو،وہ رات کی تاریکی میں چپکے سے اپنے سردار تک پہنچا دیتا ہے۔یہ ہستیاں تھیں جنھوں نے نیکی کا ایسا ماحول تیار کیا کہ جس میں شاذ و نادر ہی جرائم ہوتے تھے اور حضورؐ کے پورے دہ سالہ دور میں گنتی کے مقدمات عدالتوں میں آئے۔یہ نیکی کا ایسا ماحول تھا جس میں کوئی سی آئی ڈی نہیں رکھی گئی بلکہ لوگوں کے ضمیر ہی ان کے پاسبان اور نگراں بن گئے۔ یہ تھا وہ انقلاب جس نے باہر کے نظام کے ساتھ ساتھ اندر سے انسانی قلب و ذہن کو بدلا اور نیا کردار پیدا کر دیا۔اسی لئے وہ حقیقی اور بنیادی مسائلِ حیات کو حل کرنے میں کامیاب ہوا اور اس کے ذریعہ وقت کے تمدنی بحران میں راہ نجات پیدا ہوئی۔“(محسنِ انسانیتﷺ،ص 48-47)
یہی اندرونی انقلاب آگے چل کر ایک عظیم اجتماعی انقلاب کا سرچشمہ بنا۔جب فرد کے دل میں ایمان نے جگہ بنائی تو اس کے عمل میں دیانت پیدا ہوئی،کردار سنورا تو معاشرت میں پاکیزگی اتر آئی،مقصدِ زندگی بدلا تو ترجیحات بدل گئیں،اور جب انسان کے اندر جواب دہی کا احساس بیدار ہوا تو ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں قانون کی گرفت سے پہلے ضمیر کی بیداری نگہبان تھی۔یوں قرآن نے انسان کو محض کسی نئے نظام کا تابع نہیں بنایا،بلکہ اسے اس نظام کا باشعور،ذمہ دار اور مخلص معمار بنا دیا۔یہی وہ انسانی تعمیر تھی جس پر انقلابِ محمدیﷺ کی عظیم الشان عمارت استوار ہوئی اور جس نے مختصر مدت میں تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
انقلابِ محمدیﷺ کی یہی خصوصیت اسے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیتی،بلکہ اسے ہر دور کے لیے ایک زندہ منہج بنا دیتی ہے۔اس انقلاب نے یہ حقیقت واضح کردی کہ معاشرے کی پائیدار اصلاح صرف قوانین بدل دینے،ادارے قائم کر دینے یا نظام کے ظاہری خدوخال تبدیل کر دینے سے نہیں ہوتی،نظام کو سنبھالنے والے انسان بھی بدلنے پڑتے ہیں۔جب دل بدلتے ہیں تو کردار بدلتے ہیں،کردار بدلتے ہیں تو معاشرہ بدلتا ہے،اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ نئی کروٹ لیتی ہے۔محمدِ عربیﷺ نے اسی ترتیب کو اختیار فرمایا یعنی قرآن کے ذریعے انسان بنایا،انسانوں سے امت بنائی اور اسی امت کے ذریعے ایک صالح اجتماعی نظام کو حقیقت کا روپ عطا فرمایا۔
پس انقلابِ محمدیﷺ کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے ظاہری نتائج اور تاریخی مظاہر پر نگاہ ڈالنا کافی نہیں،اس عظیم انقلاب کی حقیقی روح تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس سرچشمۂ حیات تک لوٹنا ہوگا جہاں سے اس تبدیلی کا آغاز ہوا تھا۔وہ سرچشمہ قرآنِ مجید تھا،وہی قرآن جس نے ایک فرد کو داعیِ اعظمﷺ بنایا،اور داعیِ اعظمﷺ نے اسی قرآن کی روشنی میں ایسے افراد کی تعمیر فرمائی جن کے ایمان نے کردار کو جِلا بخشی،جن کے کردار نے ایک بااصول امت کو جنم دیا،اور اسی امت نے ایمان،عدل،اخوت،اخلاق اور انسانیت کی بنیادوں پر ایسا ہمہ گیر نظامِ حیات قائم کیا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور انسانیت کو ایک نئی معنویت عطا کی۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب سمجھنا اس کے حقیقی مقام کو محدود کر دینا ہے۔یہ کتاب محض الفاظ کی تلاوت نہیں،زندگی کی تعمیر کا پیغام ہے،محض عقائد کی تعلیم نہیں،انسان کے باطن و کردار کی تشکیل کا دستور ہے۔اس نے پہلے انسان کو بدلا،پھر بدلے ہوئے انسانوں سے امت بنائی،اور پھر اسی امت کے ذریعے معاشرے کی صورت گری اور تاریخ کی تشکیل کی۔گویا انقلابِ محمدیﷺ کی پوری داستان کے پسِ پردہ قرآنِ مجید ہی وہ قوتِ محرکہ تھا جس نے دلوں کو بدلا،کرداروں کو سنوارا،افراد کو جوڑا اور ایک نئی تہذیب و تاریخ کی بنیاد رکھ دی۔یہی قرآن کا اعجاز اور انقلابِ محمدیﷺ کا وہ زندہ معجزہ ہے جس کی گونج آج بھی دلوں کو اپنی طرف بلاتی اور انسان کو اپنے اندر انقلاب برپا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
اس پورے مضمون کا حاصل بھی یہی ہے کہ انقلابِ محمدیﷺ کو صرف تاریخ کا ایک عظیم واقعہ سمجھ کر پڑھنے کے بجائے اسے اپنے عہد اور اپنی ذات کا زندہ سوال بنایا جائے۔جس قرآن نے چودہ صدی قبل ایک منتشر اور جاہل معاشرے کے دل و دماغ بدل کر اسے تاریخ ساز امت میں ڈھال دیا،وہ آج بھی اپنی انقلاب آفریں قوت کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے محض تلاوت کی کتاب نہ رکھیں،بلکہ اسے اپنی فکر کی روشنی،اپنے کردار کی کسوٹی اور اپنی زندگی کا رہنما بنائیں۔کیونکہ انقلاب باہر سے نہیں،انسان کے اندر سے جنم لیتا ہے،دل بدلتا ہے تو کردار بدلتا ہے،کردار بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے،اور معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔پس اگر ہمیں اپنے عہد کی تاریکیوں میں روشنی پیدا کرنی ہے،اگر ہمیں ایک صالح اور عادلانہ معاشرے کا خواب حقیقت میں بدلنا ہے،اور اگر ہم انقلابِ محمدیﷺ کے حقیقی وارث بننے کی آرزو رکھتے ہیں تو اس کا راستہ آج بھی وہی ہے یعنی قرآن کی طرف واپسی،قرآن کے ذریعے تعمیرِ انسان،اور تعمیرِ انسان کے ذریعے تعمیرِ معاشرہ۔یہی معجزۂ قرآن کی ابدی انقلاب آفریں قوت ہے اور یہی انقلابِ محمدیﷺ کا وہ زندہ پیغام ہے جو آج بھی ہمیں پکار رہا ہے کہ تاریخ بدلنے سے پہلے اپنے اندر کے انسان کو بدل دو کیونکہ ایک بدلا ہوا انسان ہی ایک بدلی ہوئی دنیا کی پہلی بنیاد ہوتا ہے۔اسی حقیقت کو علامہ اقبالؒ نے اپنے مخصوص انداز میں یوں سمیٹ دیا ہے کہ جب انسان کے باطن میں حقیقی انقلاب برپا ہو جائے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے،بلکہ اس کی نگاہ،کردار اور عمل کے ذریعے پوری دنیا کے منظرنامے کو بدلنے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے؎
*تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا*
*عجب نہیں ہے کہ یہ چار سُو بدل جائے*
Comments
Post a Comment