استقامت کی راہ میں مسلسل ثابت قدمی،عزمِ صمیم اور حوصلۂ مردانہ کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا جنت کے مسافر کے لیے ناگزیر ہے۔یہ راستہ وقتی جوش،عارضی ولولے اور چند قدموں کی مسافت کا نام نہیں،بلکہ یہ تو زندگی کی آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہنے،ہر آزمائش کے سامنے سینہ سپر ہونے،مصائب و مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کرنے اور مقصدِ حیات سے وفاداری کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جس کی منزل اگرچہ جنت ہے،مگر اس کی راہیں آزمائشوں سے بھری ہوئی ہیں۔یہاں قدم قدم پر امتحان ہے،ہر موڑ پر ایک نئی آزمائش ہے،اور پے در پے آنے والی مشکلات انسان کے عزم و ارادے کو پرکھتی ہیں،تاکہ کھرا اور کھوٹا الگ ہو جائے،ثابت قدم اور کم حوصلہ نمایاں ہو جائے،اور وہ لوگ جو دنیا کی عارضی آسائشوں،راحتوں اور لذتوں کو آخرت کی دائمی نعمتوں پر ترجیح دیتے ہیں،راستے ہی سے واپس لوٹ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ استقامت کی یہ راہ کمزور ارادوں،متزلزل قدموں اور بزدل دلوں کے لیے نہیں۔اس دشوار گزار سفر کے مسافر وہی بن سکتے ہیں جنہوں نے اپنے رب کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصود بنا لیا ہو،جن کے دلوں میں آخرت کی طلب دنیا کی ہر خواہش پر غالب آ چکی ہو،جنہوں نے اپنی جان و مال کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہو،اور جو اپنے رب کی خوشنودی کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے پر ہر دم آمادہ رہتے ہوں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو آزمائشوں کی بھٹی میں جل کر کندن بنتے ہیں،مصائب کی آندھیوں میں اپنے قدموں کو مضبوط رکھتے ہیں اور حالات کے تھپیڑوں کے باوجود اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں،مگر ان کے عزم کو شکست نہیں دیتیں،طوفان اٹھتے ہیں،مگر ان کے قدموں کو متزلزل نہیں کر پاتے،حالات بدلتے ہیں،مگر ان کی وفاداریِ حق میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔وہ جانتے ہیں کہ جس راستے کی منزل جنت ہو،اس کے سفر میں آنے والی دشواریاں بھی دراصل رب کی طرف سے آزمائش اور بلندیِ درجات کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اور پھر اس صبر و استقامت کا صلہ کیا ہے؟ وہ جنت جس کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں ہیچ ہیں،وہ ابدی زندگی جہاں نہ خوف ہوگا،نہ غم،نہ زوال ہوگا،نہ فنا،نہ جدائی ہوگی،نہ فراق،نہ تھکن ہوگی،نہ اختتام۔وہاں راحت ہی راحت ہوگی،خوشی ہی خوشی ہوگی،اور سب سے بڑھ کر ربِّ کائنات کی رضامندی نصیب ہوگی۔یہی وہ نعمتِ جاوداں ہے جس کے لیے اہلِ ایمان دنیا کی عارضی راحتوں کو قربان کرتے اور آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
پس جنت دراصل انہی ثابت قدم لوگوں کا ابدی مسکن ہے جو دنیا کی مختصر اور فانی زندگی کے مقابلے میں آخرت کی دائمی کامیابی کو ترجیح دیتے ہیں،جو حالات کے بدلنے سے نہیں بدلتے،آزمائشوں سے نہیں ٹوٹتے اور مشکلات سے گھبرا کر راہِ حق سے پیچھے نہیں ہٹتے۔وہ اپنے رب کے وعدے پر یقین رکھتے ہوئے استقامت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ آ پہنچتا ہے۔
استقامت کے انہی عظیم فضائل،بے شمار برکات اور روح پرور ثمرات کے حوالے سے آج میں آپ کی خدمت میں اپنا چوتھا لیکچر پیش کر رہا ہوں۔امید ہے کہ آپ اسے محض سماعت کے لیے نہیں سنیں گے،بلکہ اس کے پیغام کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اتارنے،اپنی زندگی کے معمولات میں جگہ دینے اور اپنے کردار و عمل کا حصہ بنانے کی بھی کوشش کریں گے،کیونکہ استقامت کے فضائل کا حقیقی ادراک اسی وقت حاصل ہوگا جب اس کے اثرات ہماری زندگیوں میں نمایاں ہوں گے۔
لہٰذا آئیے! اس عظیم راہ کے مسافروں کے لیے استقامت کی ان نعمتوں،فضیلتوں اور ثمرات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے رب کی رضا کی خاطر اس راہ پر ثابت قدم رہتا ہے،اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت میں کن عظیم انعامات کے دروازے کھول دیتا ہے۔
آئیے! دلوں کو یکسو کیجیے،توجہ کو مجتمع کیجیے اور دل جمعی کے ساتھ سماعت فرمائیے۔
Comments
Post a Comment