🌹*ربیعُ الاوّل:سیرت سے تعلق کی تجدید*🌹
✍️ ندیم احمد میر
ماہِ ربیعُ الاوّل محض تقویمی اعتبار سے ایک مبارک مہینہ نہیں،بلکہ یہ ہمارے لیے محبتِ رسولِ اکرمﷺ کی تجدید،تعلقِ نبویﷺ کی تازگی اور سیرتِ طیبہ سے اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کا ایک حسین موقع بھی ہے۔حبِّ نبیﷺ کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو محض رسمی عقیدت کے اظہار تک محدود نہ رکھیں،بلکہ سیرتِ رسولﷺ کا سنجیدہ،گہرا اور شعوری مطالعہ کر کے اپنی زندگی کو اسوۂ نبویﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
ایک حساس اور صاحبِ دل قاری کے لیے سیرتِ رسولﷺ کا مطالعہ محض واقعاتِ تاریخ سے شناسائی کا ذریعہ نہیں ہوتا،بلکہ یہ زندگی میں نکھار،فکر میں پاکیزگی،دل میں سوز و گداز،کردار میں پختگی اور دینی شعور و شغف پیدا کرتا ہے۔سیرتِ طیبہ کے اوراق جب دل کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو انسان کو محض رسولِ اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات معلوم نہیں ہوتے،بلکہ اسے دین کی روح،دعوت کی حرارت،اخلاق کی بلندی،صبر و استقامت کی حقیقت اور انسانیت کی تعمیر کا شعور بھی حاصل ہوتا ہے۔
اسی احساس کے تحت میں نے اس ماہِ مبارک میں محترم نعیم صدیقی صاحبؒ کی معروف اور مؤثر کتاب *”محسنِ انسانیت ﷺ“* کے مطالعے کا انتخاب کیا ہے۔میری آپ سے بھی مخلصانہ اور دردمندانہ گزارش ہے کہ اس ربیعُ الاوّل میں کسی مستند اور معیاری کتابِ سیرت کا انتخاب کیجیے اور اسے محض پڑھنے کے لیے نہیں،بلکہ سمجھنے،محسوس کرنے اور اپنی زندگی میں اتارنے کی نیت سے پڑھیے۔
آئیے! اس ربیعُ الاوّل کو سیرت کے مطالعے سے یادگار بنائیں،شاید سیرتِ رسولﷺ کے کسی ایک واقعے سے ہماری فکر کا رخ بدل جائے،کسی ایک تعلیم سے ہمارے کردار میں انقلاب آجائے،کسی ایک پہلو سے ہمارے دل میں محبتِ رسولﷺ کی نئی روشنی پیدا ہو جائے،اور ہم اپنی ذات کی اصلاح سے آگے بڑھ کر اس بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔
سیرتِ رسولﷺ کا مطالعہ دراصل اپنے آپ کو رسولِ اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کے سامنے رکھ کر یہ سوال کرنے کا نام ہے کہ ہماری زندگی میں آپﷺ کی تعلیمات کا کتنا عکس موجود ہے؟
آئیے،اس ربیعُ الاوّل میں سیرت پڑھیں،سیرت سمجھیں،سیرت سے جڑیں اور سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں،تاکہ ہمارے دلوں میں محبتِ رسولﷺ بھی بڑھے اور ہمارے کردار میں اس محبت کی خوشبو بھی محسوس کی جا سکے۔
Comments
Post a Comment